آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ : جنوبی افریقا نے بھارت کو 3وکٹوں سے شکست دیدی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کولمبو: آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کے دسویں میچ میں جنوبی افریقہ نے دلچسپ مقابلے کے بعد بھارت کو 3 وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔
جنوبی افریقہ ویمنز نے بھارت کا 252 رنز کا ہدف 49ویں اوور میں 7 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا، 81 کے مجموعی پر جنوبی افریقہ ٹیم کی 5 کھلاڑیوں کے پویلین لوٹ جانے پر شکست سر پر منڈلانے لگی تھی۔
تاہم 8ویں نمبر پر بلے بازی کے لیے آنے والی ندین دی کلیرک نے ناقابل یقین 54 گیندوں پر 84 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیل کر بھارت سے یقینی شکست کو فتح میں بدل دیا۔
ندین دی کلیرک نے جم کر بھارتی باؤلرز کا مقابلہ کیا، اس دوران انہوں نے شاندار 8 چوکے اور 5 چھکے بھی لگائے، اوپنر بیٹر اور کپتان لورا وولوراڈٹ نے 70 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جب کہ کلوئی ٹریون نے 49 رنز بنا کر جیت کو یقینی بنایا۔ بھارت کی جانب سے سنہ رانا اور کرانتی گاؤد 2،2 وکٹیں لے کر نمایاں رہیں۔
اس سے قبل بھارتی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 49.
جنوبی افریقہ ویمنز کی جانب سے کلوئی ٹریون 32 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کر کے نمایاں رہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔