Express News:
2026-07-24@06:26:27 GMT

لاہور چڑیا گھر نایاب قسم کے جانوروں کے مجسمے نصب

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

لاہور:

چڑیا گھر میں اب زندہ جنگلی جانوروں اور پرندوں کے ساتھ ساتھ نایاب قسم کے جانوروں کے مجسمے بھی تفریح کے لیے آنے والوں کی دلچسپی بڑھا رہے ہیں۔

ڈائریکٹر لاہور چڑیا گھرعاصم چیمہ کے مطابق یہ مجسمے شہریوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات سے آگاہی دینے کے مقصد سے بنائے گئے ہیں، ان کے علاوہ چڑیا گھر میں جانوروں اور پرندوں کے پنجروں اور انکلوژرز کے باہر معلوماتی بورڈ بھی نصب کیے گئے ہیں، جن پر ان کی عادات، خوراک اور مسکن سے متعلق معلومات درج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہت جلد ان بورڈز پر کیو آر کوڈ بھی بنائے جائیں گے تاکہ شہری جنگلی حیات سے متعلق معلومات اپنے موبائل کی اسکرین پر پڑھ اور محفوظ کرسکیں۔

عاصم چیمہ نے بتایا کہ حال ہی میں 14 نئے مجسمے نصب کیے گئے ہیں جن میں زرافہ، میکاؤ، گینڈا، سانپ اور ہاتھی سمیت کئی نایاب جانور شامل ہیں، اس سے قبل ہاتھی، شیر، بن مانس اور مارخور کے مجسمے لگائے جاچکے تھے۔

 

سیاحوں کے لیے چڑیا گھر میں خصوصی “سیلفی پوائنٹ” بھی بنایا گیا ہے جہاں بچے اور خواتین ان مجسموں کے ساتھ یادگار تصاویر بنواتے نظر آتے ہیں۔

ایک شہری عبدالرحما کا کہنا تھا کہ ان مجسموں نے بچوں کی دلچسپی دوبالا کردی ہے، اب وہ جانوروں کے قریب جا کر ان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

تاہم بعض شہریوں نے اس نئے انداز پر دلچسپ تبصرے بھی کیے، بسمہ الطاف نامی خاتون نے مسکراتے ہوئے کہا کہ چڑیا گھر میں اب نایاب نسل کے زندہ جانور کم رہ گئے ہیں، تو ان کے مجسموں سے ہی دل بہلا لیتے ہیں۔

چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق اسموگ سے جانوروں کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، خصوصاً بھورے اور کالے ریچھوں کے انکلوژرز پر خصوصی شیڈ لگا دیا گیا ہے تاکہ دھوئیں اور گردوغبار سے انہیں بچایا جا سکے۔

واضح رہے کہ لاہور چڑیا گھر کے ری ویپنگ پراجیکٹ کے تحت کئی نئے جانور منگوائے جاچکے ہیں، جب کہ مزید جانوروں میں دریائی گھوڑا، گینڈا اور زرافہ شامل ہیں جن کے آنے سے چڑیا گھر کی رونقیں مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چڑیا گھر میں گئے ہیں

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا