’ڈومیسٹک ٹیررسٹ پروفیسر‘ امریکا چھوڑنے پر کیوں مجبور ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
رٹگز یونیورسٹی کے ایک تاریخ کے پروفیسر کی اسپین روانگی کی کوشش کو اس وقت دھچکا پہنچا جب ان کی فلائٹ اچانک منسوخ کردی گئی، ان کیخلاف فاشزم مخالف نظریات پر مبنی تدریس کے باعث موت کی دھمکیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔
پروفیسر مارک برے، جو اینٹی فاشسٹ تحریکوں کی تاریخ پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں، دائیں بازو اور سفید فام بالادست گروہوں کے نشانے پر ہیں، جو انہیں فاشزم مخالف ہونے پر طنزیہ طور پر ’ڈاکٹر اینٹی فا‘ کہتے ہیں۔
????????????As Rutgers professor and anti-fascist researcher @Mark__Bray and his family tried to escape death threats, they found their tickets to Spain had been cancelled at their gate at Newark airport.
— Rachel Bitecofer ???????? (@RachelBitecofer) October 9, 2025
پروفیسر مارک برے کا کہنا ہے کہ جب دھمکیاں ناقابلِ برداشت ہو گئیں اور اپنے اہلِ خانہ کی سلامتی کا خوف بڑھ گیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بقیہ تعلیمی سال اسپین میں گزاریں گے اور وہاں سے آن لائن پڑھائیں گے۔
تاہم جب وہ، ان کی اہلیہ اور 2 بچے نیو جرسی کے نیوآرک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرواز میں سوار ہونے والے تھے تو ایئرلائن نے انہیں بتایا کہ ان کی ریزرویشن منسوخ کر دی گئی ہے، منسوخی کی وجہ واضح نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: امریکا پر ’ارب پتی قبضہ‘ کیخلاف ایک ہی روز میں 4 سو سے زیادہ مظاہرے
بعد ازاں ایئرلائن نے انہیں اگلی صبح کی فلائٹ میں بک کر دیا۔ بری نے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سازش جیسا لگ سکتا ہے۔
’مگر مجھے نہیں لگتا کہ یہ محض اتفاق ہے، ہم ہوٹل میں ہیں اور کل دوبارہ کوشش کریں گے۔‘
چارلی کرک کی موت کے بعد دائیں بازو کے اثرورسوخ رکھنے والے جیک پوسوبیک نے بری کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر’ڈومیسٹک ٹیررسٹ پروفیسر‘ قرار دیا۔
مزید پڑھیں: امریکا کا نیا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ، پینٹاگون اس ہفتے کمپنی کا انتخاب کرے گا
اس کے فوراً بعد رٹگز یونیورسٹی میں ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے چیپٹر نے ایک پٹیشن میں پروفیسر برے پر ’اینٹی فا‘ تنظیم کا رکن ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔
پروفیسر مارک برے نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی گروپ کے رکن نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کا کیریبین سمندر میں چوتھا فضائی حملہ، 4 مبینہ منشیات فروش ہلاک
’میرا کردار صرف ایک استاد کا ہے، میں کبھی کسی ’اینٹی فا‘ گروپ کا حصہ نہیں رہا، نہ اب ہوں۔ کچھ لوگ مجھے ان سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جن پر میں تحقیق کرتا ہوں، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق فوکس نیوز نے اس پٹیشن کی خبر دی، جس کے بعد کسی نے سوشل میڈیا پر پروفیسر مارک برے کے گھر کا پتہ شیئر کر دیا۔ اس کے بعد سے انہیں متعدد موت کی دھمکیاں موصول ہوئیں، جن میں ایک نے ان کے طلبا کے سامنے انہیں قتل کرنے کی دھمکی دی۔
رٹگز یونیورسٹی نے اعلان کیا کہ وہ کیمپس میں اضافی سیکیورٹی فراہم کرے گی، لیکن پروفیسر مارک برے کو اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت کے حوالے سے اب بھی تشویش ہے۔
مزید پڑھیں: ’ہمیں ہمارا مجسمہ آزادی واپس دیں‘ فرانسیسی سیاستدان کا مطالبہ اور وائٹ ہاؤس کا جواب
وہ جدید اسپین کی تاریخ کے ماہر بھی ہیں اور ان کی تازہ ترین کتاب ’دی انارکسٹ انکیوزیشن: اسیسنس، ایکٹیوسٹس اینڈ مارٹائرز ان اسپین اینڈ فرانس‘ ہے۔
پروفیسر مارک برے کے مطابق وہ دیگر امریکی اساتذہ کو بھی جانتے ہیں جو دھمکیوں کے باعث ملک چھوڑ چکے ہیں، جب کہ کچھ کینیڈا یا برطانیہ میں ملازمتوں کی تلاش میں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اینٹی فا پروفیسر مارک برے تاریخ ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے رٹگز یونیورسٹی فاشزم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اینٹی فا پروفیسر مارک برے تاریخ فاشزم پروفیسر مارک برے مزید پڑھیں اینٹی فا
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘