سندھ میں نئے تعمیر شدہ اسکولوں کے معیار کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے، جام خان شورو
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
کراچی:
وزیر منصوبہ بندی و ترقی سندھ جام خان شورو کی صدارت ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں کے فور سمیت مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔
جام خان شورو نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ وفاقی سطح پر سندھ کے منصوبوں کے لیے اسلام آباد میں ایک سے دو افسران تعینات کیے جائیں۔
سیکریٹری تعلیم زاہد حسین عباسی نے بریفنگ میں بتایا کہ 9.
جام خان شورو نے ہدایت دی کہ تعمیر کیے جانے والے تمام اسکولوں کی پائیداری کم از کم 40 سال تک یقینی بنائی جائے، انہوں نے تعمیر شدہ اسکولوں کے تعمیراتی مٹیریل اور معیار کا تھرڈ پارٹی سے سروے اور غیر جانبدارانہ جائزہ کرانے کی بھی ہدایت کی۔
سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز نے اجلاس کو سڑکوں کے شعبے سے متعلق وفاقی پی ایس ڈی پی منصوبوں پر بریفنگ دی۔
جام خان شورو کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت تعلیم، صحت اور سڑکوں کے شعبوں میں بہتری کے لیے پر عزم ہے، سندھ میں جاری منصوبوں کی شفاف نگرانی اور بروقت تکمیل کے لیے نئی پالیسی وضع کی گئی ہے، منصوبوں کے معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر کسی اسکیم میں غفلت پائی گئی تو متعلقہ افسر کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منصوبوں کے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔