پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
پاکستان میں کاروں کی فروخت نے ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں صرف ستمبر کے مہینے میں 17 ہزار سے زائد نئی گاڑیاں خریدی گئیں۔ یہ نہ صرف مارکیٹ میں بہتری کی نشانی ہے بلکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 67 فیصد کا زبردست اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2025 میں مجموعی طور پر 17,174 کاریں فروخت ہوئیں، جب کہ ستمبر 2024 میں یہ تعداد صرف 10,297 تھی۔ اس سے پہلے اگست 2025 میں14,50 کاریں فروخت ہوئیں، یعنی صرف ایک ماہ میں 3 ہزار سے زائد یونٹس کا اضافہ ہوا۔
یہی نہیں، رواں مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت 42,267 یونٹس تک جا پہنچی ہے، جو پچھلے سال کی نسبت نمایاں بہتری کو ظاہر کرتی ہے۔
گاڑیوں کے ساتھ ساتھ موٹرسائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں بھی خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ستمبر میں ان کی فروخت 1 لاکھ 58 ہزار 941 یونٹس رہی، جو سالانہ بنیاد پر21 فیصد زیادہ ہے۔
اسی طرح، مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ان کی مجموعی فروخت 35 فیصد اضافے کے ساتھ4 لاکھ 31 ہزار 542 یونٹس تک پہنچ چکی ہے، جو پچھلے سال اسی مدت کے دوران 3 لاکھ 20 ہزار 187 یونٹس تھی۔
یہ تمام اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی مارکیٹ میں آٹو سیکٹر ایک بار پھر سرگرم ہو رہا ہے۔ معاشی بہتری، کم شرح سود یا نئی ماڈلز کی دستیابی جیسے عوامل ممکنہ طور پر اس مثبت رجحان کے پیچھے کارفرما ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی فروخت
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔