ویمنز ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے بھارت کا331رنز کا ہدف حاصل کرکےعالمی ریکارڈبنالیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ویمنز ورلڈ کپ کے 13ویں میچ میں آسٹریلیا نے بھارت کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر ایک روزہ کرکٹ کا ریکارڈ قائم کر دیا۔
ویشاکا پٹنم میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے 7 وکٹوں کے نقصان پر بھارت کا 331 رنز کا ہدف حاصل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
ویمنز ون ڈے کرکٹ میں اس سے قبل 2024 میں سری لنکا نے جنوبی افریقہ کے خلاف 4 وکٹوں کے نقصان پر 302 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔
ہدف کے تعاقب میں کینگروز کپتان ایلیسا ہیلی نے اننگز کے آغاز کے ساتھ ہی بڑے شاٹس لگا کر بھارتی باؤلرز پر پریشر بڑھا دیا تھا، انہوں نے میدان کے چاروں اطراف خوبصورت شاٹس کھیلے اور شاندار 142 رنز کی زمہ دارانہ بلے بازی کی، اس دوران دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والی بیٹر ایلیسا ہیلی نے 21 چوکے اور 3 چھکے بھی لگائے۔
ایشلی گارڈنر 45 اور فیبی لیچ فیلڈ نے 40 رنز بنا کر ٹیم کو ہدف کے قریب پہنچایا جبکہ آل رؤنڈر ایلس پیری نے 47 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیل کر ٹیم کی جیت پر مہر ثبت کی۔
بھارت کی جانب سے شری چرانی نے 3، دپیتی شرما اور امنجوت کور نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
اس سے قبل بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 330 رنز بنائے، بھارت کی ٹاپ آرڈر بیٹرز نے زمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔
سمرتی مندھانا 80، پرتیکا راول نے 75 رنز بنائے، ہرلین دیول 38، جمیمہ راڈریگز 33 اور رچا گوش نے 32 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو بڑے ٹارگٹ سیٹ کرنے میں مدد فراہم کی۔
آسٹریلیا کی جانب سے آنابیل سدرلینڈ نے 40 رنز کے عوض 5 شکار کیے جب کہ صوفی مولانا نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :