جب ہم شرماتے ہیں تو ہمارا چہرہ سُرخ کیوں ہوجاتا ہے؟ سائنسی وجہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جب ہمیں شرم یا جھجک محسوس ہوتی ہے تو ہمارا چہرہ سرخ پڑ جاتا ہے — یہ جسم کا ایک قدرتی ردِعمل ہے جو دماغ، اعصاب اور خون کی روانی سے جڑا ہوتا ہے۔
جب آپ کو شرمندگی، گھبراہٹ یا جھجک کا احساس ہو — مثلاً کسی کے سامنے غلطی ہوجائے، تعریف ہو جائے یا سب کی توجہ آپ پر مرکوز ہو جائے — تو دماغ فوراً ایڈرینالین ہارمون خارج کرتا ہے۔
یہی ہارمون خوف یا دباؤ کی حالت میں بھی خارج ہوتا ہے۔ ایڈرینالین خون کی نالیوں کو پھیلا دیتا ہے، خاص طور پر چہرے اور گردن میں، جس سے خون کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے اور چہرہ سرخ دکھائی دینے لگتا ہے۔
یوں شرم کے لمحے میں چہرہ دراصل گرم اور خون سے بھرپور ہو جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شرم سے چہرہ سرخ ہونا صرف انسانوں میں پایا جاتا ہے، کسی اور جاندار میں نہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق یہ انسان کی سماجی آگاہی اور جذباتی سمجھ بوجھ کی علامت ہے۔
جب کوئی شخص شرمندگی کے باعث سرخ ہوتا ہے تو یہ اشارہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطی یا صورتحال سے واقف ہے — یعنی وہ ایماندار اور حساس ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔