نئے مشرق وسطیٰ کی تاریخی سحر، یہ اسرائیل اور پورے خطے کا سنہری دور ہے،صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کے ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ہے، غزہ میں توجہ اب تعمیر نو کی طرف ہونی چاہیے،اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تاریخ ساز لمحہ ہے۔
صدرٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کیا، اپنے خطاب کے آغاز پر پارلیمنٹ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ’اچھی جگہ ہے، واقعی اچھی جگہ‘ ہے۔ اس کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایک بہت خوشی والے دن اور امید والے دن اکھٹے ہوئے ہیں
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’اندھیرے اور قید میں گزرے دو تکلیف دہ سالوں کے بعد 20 بہادر یرغمالی اپنے اہل خانہ کی شاندار آغوش میں واپس آ رہے ہیں۔ مردہ یرغمالیوں کے بارے میں کہا کہ ’اٹھائیس اور قیمتی پیارے آخر کار اس مقدس مٹی میں ہمیشہ کے لئے آرام کرنے کے لیے واپس گھر آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگ بند ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خطہ اب ’امن‘ میں ہے اور امید ہے کہ ’ہمیشہ کے لیے‘ ایسا ہی رہے گا۔ ان عرب ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکرات میں مدد دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت عظیم فتح ہے اور انھوں نے مل کر کام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب بہت مستعدی سے کیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کا شکریہ ادا کیا اور انھیں ’بہت نڈر اور دلیر شخص قرار‘ دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اب یہ اسرائیل کا سنہری دور ہے اور اس پورے خطے کا بھی سنہری دور ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ بندوقیں خاموش ہو رہی ہے، امن آرہا ہے، عرب اور مسلم ممالک نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے زور ڈالا ہے، لوگوں کو لگ رہا تھا ہم غزہ میں امن کی کوششوں پر وقت ضائع کر رہے ہیں، اسرائیل نے وہ سب کچھ جیت لیا ہے جو طاقت کے بل پر جیتا جا سکتا تھا۔ وقت آگیا ہے کہ میدانِ جنگ میں دہشت گردوں کے خلاف کامیابیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے خوشحالی کے حتمی انعام میں تبدیل کیا جائے، اسٹیو وٹکوف نے امن معاہدے کے لیے بہت محنت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹرمپ نے کہا نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ