پاکستان کی سینئر اداکارہ اور ہدایت کارہ سنگیتا نے ماضی کے ایک دلچسپ اور حیران کن واقعے سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف فلم ساز راج کپور نے انہیں رشی کپور سے فرضی شادی کروانے کی پیش کش کی تھی تاکہ وہ بھارت آکر فلموں میں کام کرسکیں۔

اداکارہ نے یہ انکشاف کچھ عرصہ قبل نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں کیا، جہاں انہوں نے اپنی فنی زندگی، ذاتی معاملات اور فلمی سفر پر تفصیل سے گفتگو کی۔ سنگیتا کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’گھرانہ‘ کے نام سے ایک فلم بنائی تھی جو اگرچہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئی، مگر اس کی کہانی بعد میں بھارت کی مشہور فلم ’باغبان‘ سے ملتی جلتی نکلی۔ ان کے مطابق ’’میری فلم پانچ سال پہلے ریلیز ہوئی، لیکن کامیابی ’باغبان‘ کو ملی۔ کہانی تقریباً ایک جیسی تھی۔‘‘

پروگرام کے دوران ایک سوال پر سنگیتا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان کا دل کبھی کسی پاکستانی ہیرو کے لیے نہیں دھڑکا، کیونکہ وہ ہمیشہ کام میں مصروف رہتی تھیں۔ تاہم، انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ انہیں ہالی ووڈ کے مشہور عرب نژاد اداکار عمر شریف بہت پسند تھے، جن کی فلم ’ڈاکٹر ژواگو‘ ان کی پسندیدہ تھی۔

سنگیتا نے مزید بتایا کہ انہیں بھارت سے متعدد فلمی پیشکشیں ہوئیں، لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنے ملک میں رہ کر کام کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق معروف بھارتی فلم ساز مہیش بھٹ نے بھی انہیں ہدایت کاری کے لیے بھارت آنے کی دعوت دی، مگر انہوں نے انکار کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ایک موقع پر تاشقند فلم فیسٹیول میں اپنی فلم کی نمائش کے لیے گئی تھیں، جہاں راج کپور بھی اپنی فلم کے ساتھ شریک تھے۔ ’’راج کپور صاحب نے وہاں مجھ سے کہا کہ آپ بھارت آ جائیں، میں آپ کےلیے سب انتظام کردوں گا‘‘۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ تک کہا کہ ’’رشی کپور سے تمہاری فرضی شادی کروا دیتا ہوں تاکہ تم یہاں سکون سے کام کر سکو۔‘‘

سنگیتا کے مطابق راج کپور انہیں اپنی فلم ’پریم روگ‘ میں ہیروئن کے طور پر لینا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے پیش کش ٹھکرا دی۔ اداکارہ نے کہا ’’میری عمر کم تھی، جذبہ زیادہ تھا، اور میں اپنے وطن میں ہی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ بھارت جانا میرا خواب نہیں تھا۔‘‘

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: راج کپور انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی