ترکیہ میں فضائی آلودگی سے ایک سال میں 62 ہزار اموات
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251018-06-17
انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکیہ کی ماحولیاتی تنظیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران فضائی آلودگی کے باعث 62 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ برسوں سے برقرار ہے اور اب اس کے اثرات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2024ء میں ترکیہ بھر میں فضائی آلودگی کے نتیجے میں 62 ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں، جب کہ تنظیم نے ترکیہ کو خطے کے سب سے زیادہ آلودہ ممالک میں شمار کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ترکیہ کی معیشت کو ہر سال فضائی آلودگی کی وجہ سے تقریباً 138 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں ایندھن کا زیادہ استعمال، گھروں میں حرارتی نظام کے اخراجات اور صنعتی فضلہ شامل ہیں۔پلیٹ فارم کے کوآرڈینیٹر دنیز غوموشیل نے بتایا کہ 2024 ء کے دوران ترکیہ کے مختلف علاقوں میں 62 ہزار افراد مضر ذرات کے باعث ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہری منصوبہ بندی کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے تو اس نقصان کو تیزی سے کم کیا جا سکتا ہے اور عالمی ادارئہ صحت کی مقررہ رہنما اصولوں تک لایا جا سکتا ہے، جس سے اقتصادی بوجھ میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اغدیر، ایزرنجان اور کوتاہیا ترکیہ کے سب سے زیادہ آلودہ صوبے ہیں، جب کہ استنبول اور انقرہ کی فضائی کوالٹی کے حوالے سے بھی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ماحولیاتی تنظیم ڈاکٹرز فار دی انوائرمنٹ سے وابستہ ماہرِ صحت چیڈم چاغلایان نے کہا کہ 2.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فضائی ا لودگی کے مطابق زیادہ ا
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔