Jasarat News:
2026-07-24@03:11:32 GMT

 ترکیہ میں فضائی آلودگی سے ایک سال میں 62 ہزار اموات

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251018-06-17

 

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکیہ کی ماحولیاتی تنظیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران فضائی آلودگی کے باعث 62 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ برسوں سے برقرار ہے اور اب اس کے اثرات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2024ء میں ترکیہ بھر میں فضائی آلودگی کے نتیجے میں 62 ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں، جب کہ تنظیم نے ترکیہ کو خطے کے سب سے زیادہ آلودہ ممالک میں شمار کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ترکیہ کی معیشت کو ہر سال فضائی آلودگی کی وجہ سے تقریباً 138 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں ایندھن کا زیادہ استعمال، گھروں میں حرارتی نظام کے اخراجات اور صنعتی فضلہ شامل ہیں۔پلیٹ فارم کے کوآرڈینیٹر دنیز غوموشیل نے بتایا کہ 2024 ء کے دوران ترکیہ کے مختلف علاقوں میں 62 ہزار افراد مضر ذرات کے باعث ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہری منصوبہ بندی کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جائے تو اس نقصان کو تیزی سے کم کیا جا سکتا ہے اور عالمی ادارئہ صحت کی مقررہ رہنما اصولوں تک لایا جا سکتا ہے، جس سے اقتصادی بوجھ میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اغدیر، ایزرنجان اور کوتاہیا ترکیہ کے سب سے زیادہ آلودہ صوبے ہیں، جب کہ استنبول اور انقرہ کی فضائی کوالٹی کے حوالے سے بھی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ماحولیاتی تنظیم ڈاکٹرز فار دی انوائرمنٹ سے وابستہ ماہرِ صحت چیڈم چاغلایان نے کہا کہ 2.

5 مائیکرون کے ذرات پھیپھڑوں کی جھلی کو عبور کر کے خون کی شریانوں تک پہنچ سکتے ہیں ۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اسی لیے ان باریک ذرات سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے، جو عالمی سطح پر سالانہ تقریباً 78 لاکھ اموات کا سبب بنتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق اگر ترکیہ میں فضائی آلودگی کی سطح عالمی ادارئہ صحت کی تجویز کردہ حد تک کم کر دی جائے تو ہر سال کم از کم 60 ہزار انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

انٹرنیشنل ڈیسک

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فضائی ا لودگی کے مطابق زیادہ ا

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔

ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق