ماتلی،سندھ ترقی پسند پارٹی نے شہید سیدجمال شاہ کی برسی منائی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251018-05-2
ماتلی (نمائندہ جسارت)ماتلی میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے زیرِ اہتمام شہید سید جمال شاہ کی 26ویں برسی کی مناسبت سے جیم خانہ ہال میں ایک یادگاری تقریب منعقد کی گئی، جس میں پارٹی کی مرکزی و ضلعی قیادت سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں حیدر چانگ، ڈاکٹر احمد نوناری، بابو جہجھو، اسلم مہندھو، راجہ سوٹھار، شاہنواز سیال، علی حیدر پہنور، گل محمد شاہ، خالد منگسی، ذوالفقار شاہ اور ہوتھ خان گاڈانانی نے سندھ کے موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔مقررین نے کہا کہ سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال سرزمین ہے لیکن یہاں کے باسی آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زرخیز زمینوں پر محنت کرنے والے کسانوں کو ان کی فصلوں کا جائز معاوضہ نہیں مل رہا، جس کے باعث زراعت جیسا مضبوط شعبہ دن بدن زوال کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ شوگر مل مالکان کسانوں سے گنے کی قیمت من مانی طے کرتے ہیں، نہ وقت پر ادائیگی کی جاتی ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی مؤثر پالیسی بنائی گئی ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہ ملنے کے باعث وہ مایوسی اور منشیات جیسی لعنتوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں، اور سرکاری اسپتالوں کی حالت ایسی ہے کہ عام شہری معمولی علاج کے لیے بھی دربدر پھرنے پر مجبور ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی تعمیر و ترقی کے دعوے کرنے والی حکومتوں نے صرف نعروں پر سیاست کی، جبکہ عملی طور پر عوام کو محرومی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اس موقع پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر قادر مگسی کی قیادت میں سندھ ترقی پسند پارٹی سندھ کے وسائل، تعلیم، زراعت، اور نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔خطاب میں کہا گیا کہ اْردو بولنے والے ہمارے بھائی ہیں اور ان کا سندھ کے مستقبل میں برابر کا حصہ ہے، اس لیے انہیں بھی اس جدوجہد میں شامل ہونا چاہیے تاکہ سندھ کی سرزمین کو استحکام اور انصاف کا گہوارہ بنایا جا سکے۔آخر میں مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کے درست استعمال سے سندھ کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ حقیقی تبدیلی صرف شعور اور اتحاد سے ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ سندھ سندھ کے کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔