برطانیہ: مساجد پر حملوں کے منصوبہ ساز گروہ کو 29 برس کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ کی عدالت نے مساجد اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے 3 دہشت گردوں کے گروہ کو 29 سال قید کی سزا سنادی۔ اس گروہ نے نیو نازی نظریے کو قبول کیا اور اسے مسلح کارروائیوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق تینوں نوجوانوں نے نسلی جنگ شروع کرنے کے لیے مساجد، عبادت گاہوں،ا سکولوں اور مختلف سماجی سہولیات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ 34 سالہ کرسٹوفر رینگروز، 25 سالہ مارکو پیزیٹو اور 25 سالہ بروگن اسٹیورٹ نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے نازی رہنما ایڈولف ہٹلر کی تعریف کی تو وہ سنجیدہ نہیں تھے اور نہ ہی ممکنہ اہداف پر بات کرتے وقت وہ سنجیدہ تھے۔تاہم پولیس نے کہا کہ تینوں نے اپنے دہشت گردانہ حملوں کو انجام دینے کے مقصد سے پہلے ہی 200 سے زیادہ چاقو اور تلواریں، باڈی آرمر اور ایک اسٹین گن جمع کر رکھی تھی۔ دوسری جانب کینیڈا کے شہر آشوا میں اسلامک سینٹر کے بانی رکن اور معزز بزرگ ابراہیم بالا کو مسجد کے قریب شہید کردیا گیا ۔ اسلامی سینٹر کے بانی رکن 80 سالہ ابراہیم بالا کو مسجد کے قریب ہی نشانہ بنایا گیا۔ اسلامک سینٹر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ ہم سب کے لیے انتہائی دکھ بھرا ہے اور ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ مقامی مسلمانوں نے کینیڈین حکومت سے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔یہ واقعہ کینیڈا میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ مقامی حکام نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں گے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوائیں گے۔اسلامک سینٹر نے کمیونٹی کے ارکان سے امن و سکون سے رہنے کی اپیل کی ہے، جبکہ مقامی مسلمانوں نے مرحوم کے لیے دعاؤں کا اہتمام کیا ہے۔ یہ واقعہ کینیڈا کی مسلمان کمیونٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو ملک میں پرامن طور پر زندگی گزار رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔