ڈھاکا ایئرپورٹ پر آتشزدگی کے بعد فلائٹ آپریشن بحال، نقصانات کا تخمینہ ایک ارب ڈالر سے زائد
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
ڈھاکا:بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کارگو سیکشن میں لگنے والی شدید آگ کے باعث چھ گھنٹے تک فلائٹ آپریشن معطل رہا تاہم حکام کے مطابق اب پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
ائیرپورٹ حکام کے مطابق پہلی پرواز رات 9 بج کر 6 منٹ پر روانہ ہوئی، جبکہ آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے۔
وزارت شہری ہوا بازی و سیاحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
آتشزدگی کے بعد ایئرپورٹ کی تمام اندرون و بیرون ملک پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔ آگ بجھانے کے لیے 37 فائر فائٹنگ یونٹس نے کارروائی میں حصہ لیا جبکہ فوج، بحریہ اور فضائیہ نے بھی امدادی کارروائیوں میں تعاون فراہم کیا۔
بین الاقوامی ایئر ایکسپریس ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش کے صدر کبیر احمد کے مطابق ابھی نقصانات کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں لیکن ابتدائی تخمینوں کے مطابق درآمدات اور برآمدات پر براہِ راست و بالواسطہ اثرات کا مجموعی حجم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔
اس دوران کئی بین الاقوامی پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا جن میں بھارت کی دہلی سے ڈھاکا آنے والی پرواز کو کولکتہ جبکہ ایئر عربیہ کی شارجہ سے آنے والی پرواز کو چٹاگانگ منتقل کیا گیا۔
یہ واقعہ بنگلہ دیش میں ایک ہفتے کے دوران تیسری بڑی آتشزدگی ہے۔ اس سے قبل منگل کو ڈھاکا میں ایک گارمنٹس فیکٹری اور کیمیکل گودام میں لگنے والی آگ نے کم از کم 16 جانیں لی تھیں جبکہ جمعرات کو چٹاگانگ میں ایک سات منزلہ گارمنٹس فیکٹری مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئی تھی۔
عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ تمام حالیہ آتشزدگی واقعات کی مکمل اور شفاف تحقیقات جاری ہیں، اور کسی بھی ممکنہ تخریب کاری یا آتش زنی کے شواہد کی صورت میں سخت اور فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔