بھارت کیخلاف 176کلومیٹر فی گھنٹہ کی گیند، کیا اسٹارک نے شعیب اختر کا ریکارڈ توڑ ڈالا؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز کے پہلے میچ کے دوران ایک دلچسپ لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب آسٹریلیا کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک کی ایک گیند کی رفتار اسپیڈو میٹر پر 176.5 کلومیٹر فی گھنٹہ دکھائی گئی، جس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔
یہ میچ بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان جاری ہے، جس میں بھارتی ٹیم بیٹنگ کر رہی ہے۔ مچل اسٹارک نے شاندار آغاز کرتے ہوئے اپنے ابتدائی پانچ اوورز میں صرف 20 رنز دیے اور بھارتی ٹیم کے مایہ ناز بلے باز ویرات کوہلی کو بغیر کوئی رن بنائے پویلین بھیج دیا۔
تاہم سب سے زیادہ توجہ اس وقت حاصل ہوئی جب اسٹارک کے اسپیل کی پہلی ہی گیند، جو انہوں نے روہت شرما کو کرائی، اس کی رفتار 176.
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کرکٹ کی تاریخ میں اب تک کی سب سے تیز گیند کا ریکارڈ پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولر شعیب اختر کے پاس ہے، جنہوں نے 2003 میں انگلینڈ کے خلاف میچ میں 161.6 کلومیٹر فی گھنٹہ (100.23 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے گیند کر کے تاریخ رقم کی تھی۔ دو دہائیوں بعد بھی یہ ریکارڈ ناقابلِ شکست ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔