حکومت نے قومی گندم پالیسی 2025-26 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت گندم کی خریداری 40 کلوگرام کے حساب سے 3,500 روپے کی مقررہ قیمت پر کی جائے گی۔

یہ منظوری وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت کو کسانوں کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔

وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کی تیاری کے دوران وفاقی حکومت نے تمام متعلقہ فریقین سے تفصیلی مشاورت کی، جن میں صوبائی حکومتیں، کسان تنظیمیں، صنعت کار اور زراعت سے وابستہ افراد شامل ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی گندم پالیسی 2025-26 عوامی مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے تشکیل دی گئی ہے، تاکہ نہ صرف غذائی تحفظ یقینی بنایا جا سکے بلکہ کسانوں کو منافع بخش نرخ بھی فراہم کیے جا سکیں۔

وزیرِاعظم نے صوبائی حکومتوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کو مشاورت اور اتفاقِ رائے سے تیار کیا گیا ہے، جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ فصل کے موسم میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں مجموعی طور پر تقریباً 62 لاکھ ٹن گندم کے اسٹریٹجک ذخائر خریدیں گی۔

نئی پالیسی کے تحت گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہو گی، جس سے ملک بھر میں اس کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے گی۔

اشتہار

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ