data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل پر عائد پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس معاملے پر باضابطہ طور پر پنجاب حکومت کو خط ارسال کر دیا ہے۔

محکمہ خوراک کے مطابق یہ اقدام وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایت پر کیا گیا تاکہ صوبے میں آٹے کی بڑھتی ہوئی قلت کو کم کیا جا سکے۔

محکمے کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی کے باعث خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں آٹے کی فراہمی متاثر ہونے سے نہ صرف قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا بلکہ فلور ملز کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب سے روزانہ ہزاروں من گندم خیبر پختونخوا بھیجی جاتی تھی، جو پابندی کے بعد مکمل طور پر رک چکی ہے۔

محکمہ خوراک کے خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 151(1) کے تحت صوبوں کے درمیان آزادانہ تجارت وفاق کی ذمہ داری ہے، لہٰذا کسی بھی صوبے کی جانب سے ایسی پابندی عائد کرنا وفاقی اصولوں اور صوبائی ہم آہنگی کے تقاضوں کے منافی ہے۔

خط میں زور دیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت فوری طور پر گندم اور آٹے کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ گندم کی ترسیل روکنے سے خیبر پختونخوا میں آٹے کے نرخوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو عام صارفین کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکا ہے۔ محکمہ خوراک نے وفاقی وزارتِ خوراک و تحقیق سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ دونوں صوبوں کے درمیان اس مسئلے کے حل کے لیے ثالثی کردار ادا کرے۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صوبوں کے درمیان تجارتی رکاوٹیں ملک گیر سطح پر غذائی تحفظ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے وفاقی حکومت کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گندم اور آٹے کی خیبر پختونخوا کی ترسیل ترسیل پر

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟