علی ترین کی پی سی بی پر شدید تنقید، لیگل نوٹس پھاڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا لیگل نوٹس پھاڑ دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں علی ترین نے کہا کہ پی ایس ایل منیجمنٹ نے انہیں ایک لیگل نوٹس بھیجا ہے جس میں تنقیدی بیانات واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں فرنچائز معاہدہ ختم کرنے اور مجھے بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے تاہم وہ خاموش نہیں رہیں گے۔
علی ترین نے کہا کہ انہیں پی ایس ایل سے محبت ہے اور یہ لیگ پورے پاکستان کی ہے، مسائل کے حل کے لیے ساتھ بیٹھنےکو تیار ہوں لیکن مجھ سے آج تک اس حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
The PSL Management has sent me a notice threatening to cancel Multan Sultans unless I offer them a public apology.
یاد رہےکہ پی سی بی نے معاہدے کی خلاف ورزی اور پی ایس ایل کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی مہم چلانے پر ملتان سلطانز کو نوٹس جاری کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ فرنچائز نے نوٹس کا تسلی بخش جواب نہ دیا تو معاہدے کی منسوخی اور فرنچائز مالکان کو بلیک لسٹ ہونے کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل علی ترین
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔