اے آئی نے چپس پیکٹ کو پستول سمجھ کر پولیس کو اطلاع دے دی، طالب علم شدید خوفزدہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میری لینڈ: امریکی ریاست میری لینڈ کے بالٹیمور میں ایک طالب علم کو ایک خوفناک اور تکلیف دہ لمحے کا سامنا کرنا پڑا جب اے آئی (مصنوعی ذہانت) الرٹ سسٹم نے اس کی جیب میں پڑے چپس کے خالی پیکٹ کو پستول سمجھ لیا اور پولیس کو الرٹ کر دیا۔
واقعہ کے وقت 16 سالہ ٹاکی ایلن اسکول کے باہر فٹبال پریکٹس کے بعد اپنی گاڑی کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک پولیس موقع پر پہنچی اور اسے بندوقیں تان کر زمین پر لٹا دیا۔
ٹاکی ایلن نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے اس کی تلاشی لی اور اسے بتایا کہ اے آئی سسٹم نے چپس کے پیکٹ کو ہتھیار سمجھ کر الرٹ جاری کر دیا تھا۔ بالٹیمور کاؤنٹی پولیس ڈپارٹمنٹ نے بھی کہا کہ اہلکاروں نے اُس وقت مہیا کی گئی معلومات پر مناسب ردعمل دیا۔ تاہم طلبہ اور والدین کے درمیان اے آئی الرٹ سسٹم پر سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ کیا یہ ٹیکنالوجی صحیح طور پر استعمال ہو رہی ہے یا اس میں خامیاں ہیں۔
ٹاکی ایلن کے مطابق یہ ایک انتہائی ڈراؤنا واقعہ تھا اور اس نے پہلے کبھی بھی ایسے خوفناک لمحے کا سامنا نہیں کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی مثال ہے کہ اے آئی کی چھوٹی غلطی بھی انسانی زندگی میں بڑی تکلیف اور خوف پیدا کر سکتی ہے۔
طالب علم کا کہنا تھا کہ وہ فٹبال پریکٹس کے بعد اسکول کے باہر اپنی گاڑی کا انتظار کر رہا تھا جب اچانک پولیس اہلکار وہاں پہنچ گئے اور اسے زمین پر لٹا دیا۔ پولیس کی کارروائی نے اس کے لیے ایک خوفناک لمحہ بنا دیا جس سے اسکول کے دیگر طلبہ بھی حیران اور پریشان ہو گئے۔
اس واقعے نے امریکا میں اے آئی کے استعمال اور اسکول سیکیورٹی کے نظام پر بحث چھیڑ دی ہے کہ کس حد تک ٹیکنالوجی قابل اعتماد ہے اور انسانی جانوں کی حفاظت میں کتنی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔