بھارت: ورلڈکپ میچ سے قبل آسٹریلوی خواتین کرکٹرز سے چھیڑ چھاڑ، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
بھارت میں جاری آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کے میچ سے قبل آسٹریلوی خواتین کرکٹرز سے چھیڑ چھاڑ کی گئی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق آسٹریلوی ٹیم کی 2 کرکٹرز کو مدھیہ پردیش میں ایک موٹر سائیکل سوار شخص نے مبینہ طور پر ڈنڈا مارا اور ان میں سے ایک کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا تھا جب آسٹریلوی ٹیم کی کھلاڑی اپنے ہوٹل سے باہر نکل کر قریبی کیفے کی طرف جا رہی تھیں۔
اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ موٹرسائیکل پر سوار ایک شخص نے ان کا پیچھا کیا اور نامناسب طریقے سے چھو کر فرار ہو گیا تھا۔
آسٹریلوی ٹیم کی کھلاڑیوں نے فوری طور پر اپنی ٹیم کے سیکیورٹی افسر کو اس حوالے سے مطلع کیا اور انہوں نے مقامی سیکیورٹی افسران سے رابطہ کیا۔ مقامی پولیس نے کھلاڑیوں کا بیان ریکارڈ کر کے کارروائی شروع کر دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مبینہ طور پر ایک راہگیر نے موٹرسائیکل کا نمبر نوٹ کر لیا تھا جس کے بعد جمعے کے روز ملزم عقیل خان کو شناخت کر کے گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس نے کہا کہ ملزم کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ