Juraat:
2026-06-03@00:01:41 GMT

''داخلہ لیجیے'' …ایک تعلیمی مرثیہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT

''داخلہ لیجیے'' …ایک تعلیمی مرثیہ

محمد آصف

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے ، مگر بدقسمتی سے پاکستان کا تعلیمی نظام کئی دہائیوں سے زوال کا شکار ہے ۔ یہ زوال کسی اتفاق یا وقتی بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسی کی مسلسل ناکامیوں، بجٹ میں کٹوتیوں، سیاسی مداخلت اور سماجی بے حسی کا حاصل ہے ۔ آج ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں تعلیم کو قومی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ کاروبار بنا دیا گیا ہے ۔
تعلیم کو کبھی ترجیح نہ دینا :پاکستان کی قومی پالیسی میں تعلیم کو کبھی حقیقی ترجیح حاصل نہیں رہی۔ تعلیمی بجٹ ہمیشہ دوسرے شعبوں کے مقابلے میں کم رکھا گیا۔ یونیسف کے مطابق پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP)کا صرف 2 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے ، جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے ۔ جب سرمایہ کاری ناکافی ہو تو نظام ترقی نہیں کر سکتا، نتیجتاً تعلیمی ڈھانچے کی تباہی، پرانے نصاب، اور غیرمتوجہ اساتذہ سامنے آتے ہیں۔
نجکاری اور طبقاتی خلیج میں اضافہ:تعلیم اب ایک منافع بخش جنس (commodity) بن چکی ہے ۔ مہنگے نجی اسکول اور یونیورسٹیاں صرف امیر طبقے کے لیے دستیاب ہیں، جبکہ غریب اور متوسط طبقہ کمزور سرکاری اداروں میں پسماندگی کا شکار ہے ۔ اس دوہری تعلیمی ساخت نے معاشرتی طبقاتی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے ایک تعلیم امیروں کے لیے جدید اور مہنگی، اور دوسری باقی قوم کے لیے فرسودہ اور ناکافی۔ اس نظام نے سماجی ترقی اور برابری کے امکانات کو ختم کر دیا ہے ۔
استحصال کا شکار معلم :جو پیشہ کبھی معمارِ قوم کہلاتا تھا، آج بدترین معاشی حالات میں ہے ۔ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں اساتذہ کم تنخواہوں، غیر یقینی معاہدوں، اور بغیر سہولیات کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اساتذہ کے وقار کے ساتھ ساتھ تعلیم کے معیار میں بھی شدید کمی آئی ہے ۔ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کے اساتذہ عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی نہ گزاریں۔ عوامی ذمہ داری کا تجارتی استحصال : نجکاری کو عموماً کارکردگی بہتر بنانے کے نام پر پیش کیا جاتا ہے ، مگر پاکستان میں یہ دراصل ریاست کی آئینی ذمہ داری سے فرار کا ذریعہ بن چکی ہے ۔ مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کا فرض تھا، مگر نجی اداروں کو کنٹرول سونپ کر حکومت نے تعلیم کو منافع بخش کاروبار بنا دیا ہے ۔ تعلیم اب خدمت نہیں، تجارت ہے ۔
نجی تعلیم کا فریب :نجی ادارے بظاہر جدید عمارات، یونیفارم اور انگریزی تعلیم کے ذریعے اپنی برتری ظاہر کرتے ہیں، مگر اکثر میں علمی معیار کا شدید فقدان ہے ۔ والدین ظاہری چمک دمک سے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ طلبہ کو محض رٹّے اور امتحان کے نمبروں تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ نتیجتاً ڈگریاں تو چمکتی ہیں، مگر مستقبل اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے ۔ تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت :سرکاری اداروں میں میرٹ کی جگہ سیاست نے لے لی ہے ۔ یونیورسٹیوں میں تعیناتیاں، تبادلے ، اور انتظامی فیصلے اکثر سیاسی وفاداری کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ وائس چانسلر سے لے کر استاد تک، قابلیت کے بجائے تعلقات کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ یہ رجحان علمی اداروں کی خودمختاری اور ساکھ دونوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے ۔
پرانا نصاب اور غیر متعلقہ تعلیم:پاکستان کا نصاب جدید دنیا کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ حفظ اور رٹّے پر مبنی ہے ، تخلیق اور عملی مہارتوں سے خالی۔ ٹیکنالوجی، اختراع اور عملی تربیت پر توجہ نہ ہونے کے باعث طلبہ عالمی معیار کی مسابقت تو کیا، مقامی منڈی میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ نوجوان نسل کی بے سمتی اور بدلتے نمونے : آج کے نوجوان تعلیم کے بجائے فری لانسنگ، سوشل میڈیا، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے غیر رسمی ذرائع آمدن کی طرف مائل ہیں۔ جب ایک یوٹیوبر کسی پروفیسر سے بیس گنا زیادہ کماتا ہے تو نوجوان کیوں تعلیم حاصل کرے ؟ نتیجتاً تعلیمی اداروں سے دلچسپی کم ہو رہی ہے اور معاشرتی سطح پر ”بغیر ڈگری کے کامیابی” ایک نیا معیار بن چکا ہے ۔
”داخلہ لیجیے” … ایک تعلیمی مرثیہ: داخلہ لیجیے … آدھی فیس میں، قسطوں پر، اسکالرشپ کے ساتھ… بہترین عمارتیں، پی ایچ ڈی فیکلٹی، کشادہ کیمپس… یہ نعرے آج سوشل میڈیا پر گونجتے ہیں۔ مگر یہ اشتہارات نہیں، ایک زوال پذیر نظام کی آہ و بکا ہیں۔ وہ نظام جس میں کبھی عزت یافتہ اساتذہ آج سیلز مین بن کر داخلوں کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ تدریس کا مقدس پیشہ اب معاشی شکست خوردہ طبقے کا آخری سہارا بن چکا ہے ۔ یہ آوازیں تاجروں کی نہیں، اساتذہ کی ہیں انبیاء کے وارث، جو اب عزت بچانے کے لیے غربت کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ کبھی حکومتی کالجز کو خودمختاری دینے کے وعدے ہوئے ، یونیورسٹیاں تیزی سے قائم کی گئیں، فنڈز بھی آئے ، مگر جلد ہی وہ رُک گئے ۔ اب یونیورسٹیاں مکمل طور پر فیسوں پر چل رہی ہیں، جو عام عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں۔ دوسری طرف، وہ کالجز جو کم فیس والے BS پروگرام چلا رہے ہیں، یونیورسٹیوں کے دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک خاموش”تعلیمی جنگ”جاری ہے جہاں ادارے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
خاموش ریاست: اس تمام تباہی میں ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ تعلیم جو قوموں کو عروج دیتی ہے حکمرانوں کی نظر میں بوجھ بن چکی ہے ۔ فلاحی ریاست کا خواب اشرافیہ کے شاہانہ اخراجات میں دفن ہو چکا ہے ۔ روم جل رہا ہے ، اور نیرو بانسری بجا رہا ہے ۔ یوں اساتذہ ۔۔۔ جو نبیوں کے وارث ہیں ۔۔۔ بے بسی سے پکار رہے ہیں:”;داخلہ لیجیے … داخلہ لیجیے …
نتیجہ:تعلیم کو قومی بقا کی حکمتِ عملی بنانا ہوگا پاکستان کا تعلیمی بحران دراصل نظام کے مکمل انہدام کی علامت ہے ۔ جب تک میرٹ، اساتذہ کا احترام، نصاب کی جدیدیت، اور حقیقی عوامی سرمایہ کاری بحال نہیں ہوتی، ہم جہالت اور ناانصافی پر مبنی مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں مزید نجکاری نہیں چاہیے ۔ ہمیں مقصد میں انقلاب چاہیے ۔تعلیم کو کاروبار یا بوجھ نہیں بلکہ قومی بقا کی حکمت ِعملی کے طور پر اپنانا ہوگا۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: داخلہ لیجیے تعلیم کو کا شکار رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس