اورنگی میں فائرنگ سے زخمی رینٹ اے کارکامالک چل بسا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-02-12
کراچی( اسٹاف رپورٹر ) اورنگی ٹاؤن پاکستان بازار سے رینٹ اے کے کار کے مالک عالمگیر درران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان بازار تھانے کی حدود اورنگی ٹائون بنگلا بازار میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب تقریباً پونے ایک بجے 50 سالہ محمد عالمگیر ولد محمد اسلام اپنے رینٹ اے کار آفس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اسی دوران دو مسلح ڈاکو دفتر میں داخل ہوئے اور موجود افراد سے نقدی و موبائل فون لوٹ لیے۔ڈاکو جب عالمگیر کے قریب پہنچے تو اس نے دفاع میں ایک پانا اٹھایا، جس پر ڈاکوؤں نے مشتعل ہو کر فائرنگ کر دی۔ گولی عالمگیر کے پیٹ میں لگی، جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔زخمی کو ابتدائی طور پر کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہاںطبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث اسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب دورانِ علاج دم توڑ گیا۔ مقتول اورنگی ٹاؤن کا رہائشی اوررینٹ اے کار کاروبار سے وابستہ تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔