بلیدا پر صیہونی حملہ امریکی اجازت سے ہوا، حزب الله
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں حزب الله کا کہنا تھا کہ لبنانی حکومت گزشتہ چند ماہ کے برعکس ایک مختلف نقطہ نظر اپنائے اور اسرائیل کی بار بار ہونے والی جارحیت کو روکنے کیلئے جامع منصوبہ جلد از جلد منظور کرے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب الله" نے جنوبی علاقے بلیدا پر حالیہ صیہونی جارحیت کے ردعمل میں اعلان کیا کہ اسرائیل کے یہ جرائم امریکہ کی مکمل سرپرستی میں انجام پا رہے ہیں۔ حزب الله نے کہا کہ واشنگٹن، تل ابیب کو حملوں میں شدت لانے کی اجازت دے کر، لبنان پر قومی مفادات کے متضاد ایجنڈے نافذ کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حزب الله نے اپنے بیان میں لبنان کے صدر "جوزف عون" کے موقف کی تعریف کی، جنہوں نے لبنانی فوج سے اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ حزب الله نے لبنانی صدر کے اس موقف کو قومی اور شجاعانہ قرار دیا۔ حزب الله نے اپنے بیان میں زور دیا کہ ہم لبنانی فوج کی ہر ممکن حمایت اور مسلح افواج کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جارح دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے مکمل سیاسی تحفظ فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
آخر میں، حزب الله نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ چند ماہ کے برعکس ایک مختلف نقطہ نظر اپنائے اور اسرائیل کی بار بار ہونے والی جارحیت کو روکنے کے لئے جامع منصوبہ جلد از جلد منظور کرے۔ دوسری جانب کچھ ہی دیر قبل لبنانی صدر نے اپنی فوج سے كہا كہ وہ کسی بھی صیہونی دراندازی کے خلاف شدت سے ڈٹ جائیں۔ یاد رہے کہ آج صبح صیہونی فوج کا ایک دستہ لبنان اور فلسطین کی سرحد عبور کرنے کے بعد، بلدیہ بلیدہ کی عمارت میں داخل ہو گیا۔ جس کے بعد اس علاقے میں موجود لبنانی فوج ہائی الرٹ ہوگئی۔ اس جارحیت کے بعد مذکورہ علاقے میں مزید فوجی اور ساز و سامان بھیجا جا رہا ہے۔ بلیدا پر صیہونی فوج کی کارروائی میں اس رژیم کے ڈرونز بھی شامل تھے۔ جارح فوج اب بھی بلیدا میں موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الله نے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔