ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کی تحقیقات میں اہم موڑ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کی تحقیقات میں اہم موڑ سامنے آگیا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی،سرکاری وکیل راجہ نوید حسین عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے پراسکیوشن کے مزید 3 گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لئے، ملزم عمر حیات کو گاڑی فراہم کرنے والے شوروم کے مالک، ڈرائیور اور پولیس اہلکار نے آج عدالت میں بیان ریکارڈ کرایا، وکلاء صفائی کی جانب سے گواہان پر جرح نہ ہو سکی۔کیس میں مجموعی طور پر 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 دسمبر تک ملتوی کردی۔یاد رہے کہ 2 جون کو اسلام آباد میں 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کو ان کے گھر میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔پولیس نے ثنا یوسف قتل کا مقدمہ مقتولہ کی والدہ فرزانہ یوسف کی مدعیت میں سمبل پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 302 (ارادی قتل) کے تحت درج کیا گیا تھا، بعد ازاں تکینیکی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے عمر حیات نامی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ٹک ٹاکر اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے وجہ سے مشہور تھیں، ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تقریباً 8 لاکھ فالوورز اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر تقریباً 5 لاکھ فالوورز تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ثنا یوسف
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔