غیر ملکی سرمایہ کاروں کا چین کے اقتصادی “انجن” کے کردار پر بھرپور اعتماد
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
غیر ملکی سرمایہ کاروں کا چین کے اقتصادی “انجن” کے کردار پر بھرپور اعتماد WhatsAppFacebookTwitter 0 29 April, 2025 سب نیوز
بیجنگ :سوچو گلوبل انویسٹمنٹ کانفرنس 2025 کا آغاز ہوگیا۔ 42 ممالک اور خطوں سے غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والے کاروباری اداروں کے نمائندوں نے تقریب میں شرکت کی ، جن میں یورپ ، امریکہ ، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے روایتی بیرونی سرمایہ کار ممالک کے ساتھ ساتھ جنوب مشرقی ایشیا ، مشرق وسطی ، وسطی اور مشرقی یورپ ، جنوبی امریکہ اور افریقہ جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹیں بھی شامل ہیں۔ اس عالمی سرمایہ کاری کانفرنس میں 340 ارب یوآن سے زائد کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ 417 منصوبوں پر دستخط کیے گئے۔اس سال کی چائنا انٹرنیشنل کنزیومر پراڈکٹس ایکسپو اور چائنا امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ فیئر (کینٹن میلے) میں شرکت کرنے والے برانڈز اور انٹرپرائزز دونوں کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔
اپریل کے وسط میں ، کنزیومر پراڈکٹس ایکسپو نے 71 ممالک اور خطوں سے 1،700 سے زیادہ صارفی کمپنیوں کو راغب کیا ، جس میں 4،200 سے زیادہ شریک برانڈز شامل تھے، جبکہ کینٹن میلے کو ہمیشہ چین کی غیر ملکی تجارت کی اہم سمت سمجھا جاتا ہے۔ اس سال کا کینٹن میلہ اگرچہ اب بھی جاری ہے ، لیکن 27 اپریل تک ، دنیا بھر کے 219 ممالک اور خطوں سے 224372 غیر ملکی خریدار پہلے ہی شرکت کر چکے ہیں ، جو ایک ریکارڈ سطح ہے۔ یہاں، ان سب کی موجودگی کا ایک مشترکہ مقصد ہے، چین کے ساتھ تعاون کے لئے مزید نئے مواقع تلاش کرنا.
آج، چین کے اقتصادی انجن کا کردار نہ صرف “میڈ ان چائنا” سے آتا ہے، بلکہ ” چین میں تخلیق کردہ’’ اور ’’چینی مارکیٹ ‘‘سے بھی قریبی تعلق رکھتا ہے ۔حالیہ دنوں، میں نے ایک رپورٹ دیکھی کہ چین میں 36 جرمن کمپنیوں نے نئی جرمن حکومت کو مشترکہ طور پر ایک تجویز پیش کی، جس میں نشاندہی کی گئی کہ “جرمنی کو معیشت میں اپنا اہم مقام برقرار رکھنے کے لئے، چین میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے “. تجویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ چین نہ صرف ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے بیٹری ٹیکنالوجی، خود کار ڈرائیونگ ، ذہین مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل معیشت میں ایک بڑی صارف مارکیٹ ہے، بلکہ مضبوط قائدانہ کردار بھی دکھاتا ہے، اور چین جرمن ٹیکنالوجی کی مشترکہ تخلیق میں ایک اہم شراکت دار ہے. یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ چین فعال طور پر اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دے رہا ہے ، اصلاحات اور کھلے پن کو گہرا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے پیمانے کے علاوہ، سرمایہ کاری کے شعبہ جات بھی تبدیل ہو رہے ہیں، مینوفیکچرنگ سے آر اینڈ ڈی تک، چین کی صنعتی چین اور جدت طرازی کے سلسلے میں گہرائی سے سرایت کر رہے ہیں،
یوں ملٹی نیشنل انٹرپرائزز کی فعالیت کی عالمی تقسیم میں چینی مارکیٹ کی اہمیت بڑھ رہی ہے.اس کے علاوہ چین زیادہ فعال اور کھلے رویے کے ساتھ دنیا کو گلے لگا رہا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری تک رسائی کے لئے منفی فہرست کی مسلسل “کمی” سے لے کر کاروباری ماحول کو مسلسل بہتر بنانے تک، دنیا کے لئے اعلیٰ معیار کے آزاد تجارتی زونز کے نیٹ ورک کی توسیع سے لے کر ٹرانزٹ ویزا فری پالیسی میں جامع نرمی اور بہتر بنانے تک، یہ تمام اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ چین گلوبل مارکیٹ ہے اور تمام ممالک کے لئے ایک موقع ہے، اور چین کے کھلے پن کے دروازے صرف وسیع سے وسیع تر ہوں گے.رواں سال کے آغاز سے ،
چین ترقیاتی فورم کا سالانہ اجلاس ، ژونگ گوان چھون فورم کا سالانہ اجلاس ، سوچو گلوبل انویسٹمنٹ کانفرنس ، کنزیومر ایکسپو اور کینٹن میلے اور دیگر سرگرمیوں نے دنیا کو چینی معیشت کی طاقت ، جدت طرازی اور ترقی کی محرک قوت ، اور ایک ذمہ دار بڑے ملک کی کھلی سوچ دکھائی ہے۔ بڑھتے ہوئے پیچیدہ بیرونی ماحول نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی چین کے ساتھ تعاون کی خواہش کو کمزور نہیں کیا ہے بلکہ اس کے برعکس اس نے آزاد تجارتی نظام کو برقرار رکھنے میں چین اور بہت سے دوسرے ممالک کے مشترکہ مفادات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ چین نے ٹھوس اقدامات سے ثابت کیا ہے کہ عالمی اقتصادی ترقی کو جو چیز فروغ دے سکتی ہے وہ ٹیرف رکاوٹیں نہیں بلکہ جدت طرازی پر مبنی صنعتی ماحولیات اور جیت جیت کا حامل باہمی فائدہ مند بین الاقوامی تعاون ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمصالحت اور پسپائی کا راستہ جبر کرنے والے کو مزید جبر کا موقع فراہم کرے گا ، چینی وزیر خارجہ چین اور روس کے درمیان باہمی اعتماد میں تبدیلی نہیں آئی، چینی وزیر خارجہ برکس ممالک کو ترقی کے نصب العین میں اہم قیادت کا کردار ادا کرنا چاہیے، چینی وزیر خارجہ چین میں غیرملکی سرمایہ کاری کی صورتحال اور رجحان واضح ہو رہا ہے، رپورٹ چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کریں گے ، چینی صدر امریکہ بین الاقوامی اسلحے کے کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کے نظام میں سب سے بڑا تخریب کار ہے،چین کی وزارت خارجہ چین کی جانب سے’’تھیئَے شیئن جیاؤ، نیو عہ جاؤ کی کورل ریف ایکو سسٹم سروے رپورٹ‘‘جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: غیر ملکی سرمایہ کاروں چین کے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار