بھارت ہمیں جذبے میں مات نہیں دے سکتا، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہیں، زیرو امکانات ہیں کہ کوئی جنگ جیسی صورتحال ہو، اگر حملہ ہوا تو بھارت میزائل کی صورت میں کرسکتا ہے، جیسا بھارت کرے گا ویسا ہی جواب ملےگا۔ اسلام ٹائمز۔ مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بھارت ہمیں جذبے میں مات نہیں دے سکتا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہیں، زیرو امکانات ہیں کہ کوئی جنگ جیسی صورتحال ہو، اگر حملہ ہوا تو بھارت میزائل کی صورت میں کرسکتا ہے، جیسا بھارت کرے گا ویسا ہی جواب ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ایئر فورس بہت زیادہ پروفیشنل ہے، بھارت ہمارے جذبے میں ہمیں مات نہیں دے سکتا، ٹیکنالوجی میں بھی ہم ان سے پیچھے نہیں ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور مریم نواز کو حکومت چلانے کے حوالے سے گائیڈ کرتے ہیں۔ رانا ثنا اللہ کا عمران خان کے متعلق سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ وہ 2011ء سے مذاکرات کرنے کو تیار نہیں، ہم کیا کر سکتے ہیں۔؟ اے پی سی میں تحریک انصاف کو بھی لایا جائے گا، اگر تحریک انصاف کہے گی تو بانی کو لایا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رانا ثنا اللہ کہنا تھا کہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔