Daily Ausaf:
2026-06-03@06:48:05 GMT

لفظوں کا محاذ اور تاریخ کی صدا

اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT

آج میں اس دھرتی کی تقدیرکیلئے اپنے ملک کے اہلِ قلم،اہلِ فکراوروہ جودردِدل رکھتے ہیں،ان سے مخاطب ہونے کی جسارت کررہا ہوں۔ آج جب ہم تاریخ کے سنگِ میل پرکھڑے ہیں، تو ہوائیں فقط ہوانہیں،یہ وقت کانوحہ پڑھ رہی ہیں۔جنوبِ ایشیا کی فضائیں وہی ہیں، لیکن ان میں وہ صدیوں پرانی دھڑکنیں گونج رہی ہیں جوکبھی پانی کے کناروں پر تہذیبوں کی بنیادڈالتی تھیں، اورکبھی انہی پانیوں پر جنگ وجدل کی کشتیاں بہالے جاتی تھیں۔
یہ وقت عام نہیں،یہ گھڑی محض لمحوں کی روانی نہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جوقوموں کی پیشانیوں پرتاریخ کی مہریں ثبت کرتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں الفاظ،خنجروں کی نوک پررکھے جاتے ہیں، اور فیصلے،صرف قراردادوں میں نہیں،قوموں کے ضمیرمیں تحریرکیے جاتے ہیں۔یہ کوئی معمولی لمحہ نہیںیہ وہ گھڑی ہے جب الفاظ،بارود سے زیادہ بھاری ہوچکے ہیں۔جب ایک جملہ،توپ کے گولے سے بڑھ کردھماکہ خیزہے۔جب بیانات، میدانِ جنگ کی گھن گرج سے کہیں بلندتر ہیں۔ جب لہجے،سرحدوں کوپارکرتے ہیں اورتلواروں کی کاٹ سے زیادہ دلوں کوچیرتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جوقوموں کی پیشانیوں پرتاریخ کی مہریں ثبت کرتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں الفاظ، خنجروں کی نوک پررکھے جاتے ہیں۔
یہ وقت عام وقت نہیں ہے۔یہ وہ گھڑی ہے جس پرتاریخ اپناقلم رکھتی ہیاورتقدیراپنے فیصلے لکھتی ہے۔جنوبی ایشیاکے افق پرجو بادل چھائے ہوئے ہیں،وہ صرف سیاست کی گرد نہیں۔یہ تاریخ کی وہ راکھ ہے جوماضی کی تباہ تہذیبوں سے اٹھ رہی ہے۔جنوبی ایشیاکی ہوائیں،آج کوئی عام ہوانہیں،یہ وقت کی سسکیاں ہیں۔یہ ماضی کی بازگشت ہے۔یہ مستقبل کی لرزتی ہوئی پیش گوئی ہے۔جنوبی ایشیاکے افق پرجوبادل چھائے ہوئے ہیں، وہ محض موسمی تغیرنہیں،یہ تاریخ کی وہ گرد ہے جو تہذیبوں کے ملبے سے اٹھتی ہے۔ پاکستان اوربھارت دو ایٹمی قوتیںآج ایک ایسی نوکِ سناں پرکھڑی ہیں،جہاں ایک معمولی لغزش،ایک ناپختہ بیان،ایک ناقابلِ برداشت حرکت،ہمیں اس دہانے پرلاسکتی ہے جہاں انسانیت کی سانس بھی محض ماضی کاقصہ بن جائے۔
ہندوستان اورپاکستانیہ محض دوملک نہیں، بلکہ دو تاریخیں،دویادداشتیں،دوخواب ہیں، جو کبھی ایک ہی خواب تھے۔ان کے درمیان جو تناؤ ابھرا ہے،وہ صرف سفارتی قضیہ نہیں،بلکہ وہی پرانی صدا ہے جوہمالیہ کی چوٹیوں سے لے کرسندھ کی وادیوں تک سنائی دیتی ہے۔ہمیں یادہے،ہم کو سب کچھ یادہے۔یہ انسانی تہذیب کے کنگرے پرلٹکتی ہوئی وہ آخری صداہے جوہمیں خبردارکررہی ہے۔ پاکستان اوربھارت،دوایٹمی قوتیں، آج زبانوں سے آگ برسارہی ہیں،اوریہ زبان کی بارودکسی روزاس دنیاکودہکتی، چنگھاڑتی آگ بناسکتی ہے۔
خودی کوکر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے،بتا تیری رضا کیا ہے
آئیے!پہلے سندھ طاس معاہدے کے متعلق جانتے ہیں کہ آخریہ پانی کے ہتھیار کا آغاز کہاں سے ہوا؟
میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا۔ یہ معاہدہ برصغیر کے بڑے دریائوں کے پانی کی تقسیم کاضابطہ فراہم کرتاہے۔معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاستلج،بیاس،اورراویبھارت کودئیے گئے، جبکہ تین مغربی دریا سندھ، جہلم، اورچناب پاکستان کودیے گئے۔یہ معاہدہ اب تک خطے میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے امن کی بنیاد رہا ہے، باوجوداس کے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کئی جنگیں اورکشیدگیاں ہوئیں۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ حال ہی میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے پردوبارہ غور کرنے یااس سے پیچھے ہٹنے کی بات کی ہے۔ بعض بھارتی رہنمائوں اورحکومتی بیانات میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ بھارت مغربی دریائوں کے پانی کومکمل طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرے گا،جس پر پاکستان کاانحصارہے۔بھارت کے اس موقف کو بعض مبصرین ’’پانی کوجنگی ہتھیار‘‘کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش قراردے رہے ہیں۔
بھارت نے مغربی دریائوں پرمتعددڈیم اور ہائیڈرو پاور جیسے کہ بگلیہار،کشن گنگا،اوررتلے ڈیم منصوبے شروع کیے ہیں،ان منصوبوں سے اگرچہ براہ راست پانی کارخ موڑناممکن نہیں، تاہم ان کی مددسے پانی کے بہائو کومحدودوقت کیلئے روکا جاسکتاہے،جوکہ فصلوں کیلئے اہم اوقات میں پاکستان کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ یادیگرعالمی پلیٹ فارمز پر سندھ طاس معاہدے کے بعض نکات پراعتراضات اٹھائے گئے اورپاکستان کی شکایات کے حل میں تاخیرکامعاملہ اب تک جاری ہے۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کابڑاانحصارزراعت پرہے اورزراعت کیلئے پانی کی مستقل فراہمی ناگزیرہے۔پانی کی کمی سے فصلوں کی پیداوارمتاثرہوسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کوپاکستان کی رگِ حیات سمجھاجاتاہے۔پاکستان کے کئی ہائیڈرو پاور منصوبے دریائوں کے پانی پرمنحصرہیں۔پانی کی کمی توانائی کے شعبے میں بھی بحران پیداکرسکتی ہے۔ دریائوں کے بہائو میں کمی سے ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہوسکتاہے،خاص طورپرسندھ ڈیلٹامیں نمکیات کا پھیلائو بڑھ سکتاہے اور برسوں سے یہ محسوس کیا جارہاتھاکہ مودی حکومت جوہندوقوم پرستی کی علمبردارکہلاتی ہے،یہ واضح ہوگیاتھاکہ پانی پر کشیدگی دونوں ملکوں کے درمیان مزیدتنائوکوجنم دے سکتی ہے،جوکہ خطے میں امن کیلئے خطرناک ہوگا اوراب یہ شک یقین کی شکل اختیار کرگیا ہے۔
عالمی برادری نے سندھ طاس معاہدے کوایک کامیاب ماڈل قراردیتے رہیں ہیں اوریہی وجہ ہے پاک وہندکی چارجنگوں کے باوجود اس معاہدے کوہتھیارکے طورپراستعمال کرنے کی کوشش نہیں کی گئی،یہی وجہ ہے عالمی برادری اس کی حفاظت پرزوردے رہی ہے ۔
مگراس سے پہلے کہ ہم اس اندھے کنویں میں جھانکیں،آئیں ذرا رک کرتاریخ سے کچھ سیکھ لیں۔کیاتم نے روم کی تباہی نہیں دیکھی؟ کیا بغدادکے جلتے ہوئے کتب خانے، تمہارے خوابوں میں نہیں آتے؟ کیا ہیروشیما اورناگاساکی کے سائے، آج بھی ہمارے ضمیر پر لرزہ طاری نہیں کرتے؟ کیا ہیروشیما اور ناگاساکی کے کھنڈرات کے مناظر اور مارے جانے والوں کی چیخیں تمہیں سنائی نہیں دے رہیں؟ کیا ہیروشیمااورناگاساکی کے نوحے ابھی تک تمہارے بہرے کانوں کے پردے پھاڑنے کیلئے کافی نہیں؟
یادرکھو!ایٹم بم صرف ہتھیارنہیںوہ نسلوں کا زہرہے۔ایک باروہ راکھ برسادے تو صدیوں تک صرف خاموشی جنم لیتی ہے،اوروہ بھی ایسی خاموشی جسے نہ اذان توڑتی ہے،نہ کسی مندر کا سنکھ، نہ کسی گرجاگھرکی گھنٹیاں،نہ ماں کی لوری، نہ بچے کی ہنسی۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے یہ وہ لمحہ ہے دریائوں کے پاکستان کی اس معاہدے تاریخ کی پانی کی نہیں یہ یہ وقت ہیں یہ

پڑھیں:

سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب

سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔

 خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

 سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔

 علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

 گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

 بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ