Daily Ausaf:
2026-07-24@06:19:28 GMT

لفظوں کا محاذ اور تاریخ کی صدا

اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT

آج میں اس دھرتی کی تقدیرکیلئے اپنے ملک کے اہلِ قلم،اہلِ فکراوروہ جودردِدل رکھتے ہیں،ان سے مخاطب ہونے کی جسارت کررہا ہوں۔ آج جب ہم تاریخ کے سنگِ میل پرکھڑے ہیں، تو ہوائیں فقط ہوانہیں،یہ وقت کانوحہ پڑھ رہی ہیں۔جنوبِ ایشیا کی فضائیں وہی ہیں، لیکن ان میں وہ صدیوں پرانی دھڑکنیں گونج رہی ہیں جوکبھی پانی کے کناروں پر تہذیبوں کی بنیادڈالتی تھیں، اورکبھی انہی پانیوں پر جنگ وجدل کی کشتیاں بہالے جاتی تھیں۔
یہ وقت عام نہیں،یہ گھڑی محض لمحوں کی روانی نہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جوقوموں کی پیشانیوں پرتاریخ کی مہریں ثبت کرتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں الفاظ،خنجروں کی نوک پررکھے جاتے ہیں، اور فیصلے،صرف قراردادوں میں نہیں،قوموں کے ضمیرمیں تحریرکیے جاتے ہیں۔یہ کوئی معمولی لمحہ نہیںیہ وہ گھڑی ہے جب الفاظ،بارود سے زیادہ بھاری ہوچکے ہیں۔جب ایک جملہ،توپ کے گولے سے بڑھ کردھماکہ خیزہے۔جب بیانات، میدانِ جنگ کی گھن گرج سے کہیں بلندتر ہیں۔ جب لہجے،سرحدوں کوپارکرتے ہیں اورتلواروں کی کاٹ سے زیادہ دلوں کوچیرتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جوقوموں کی پیشانیوں پرتاریخ کی مہریں ثبت کرتاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں الفاظ، خنجروں کی نوک پررکھے جاتے ہیں۔
یہ وقت عام وقت نہیں ہے۔یہ وہ گھڑی ہے جس پرتاریخ اپناقلم رکھتی ہیاورتقدیراپنے فیصلے لکھتی ہے۔جنوبی ایشیاکے افق پرجو بادل چھائے ہوئے ہیں،وہ صرف سیاست کی گرد نہیں۔یہ تاریخ کی وہ راکھ ہے جوماضی کی تباہ تہذیبوں سے اٹھ رہی ہے۔جنوبی ایشیاکی ہوائیں،آج کوئی عام ہوانہیں،یہ وقت کی سسکیاں ہیں۔یہ ماضی کی بازگشت ہے۔یہ مستقبل کی لرزتی ہوئی پیش گوئی ہے۔جنوبی ایشیاکے افق پرجوبادل چھائے ہوئے ہیں، وہ محض موسمی تغیرنہیں،یہ تاریخ کی وہ گرد ہے جو تہذیبوں کے ملبے سے اٹھتی ہے۔ پاکستان اوربھارت دو ایٹمی قوتیںآج ایک ایسی نوکِ سناں پرکھڑی ہیں،جہاں ایک معمولی لغزش،ایک ناپختہ بیان،ایک ناقابلِ برداشت حرکت،ہمیں اس دہانے پرلاسکتی ہے جہاں انسانیت کی سانس بھی محض ماضی کاقصہ بن جائے۔
ہندوستان اورپاکستانیہ محض دوملک نہیں، بلکہ دو تاریخیں،دویادداشتیں،دوخواب ہیں، جو کبھی ایک ہی خواب تھے۔ان کے درمیان جو تناؤ ابھرا ہے،وہ صرف سفارتی قضیہ نہیں،بلکہ وہی پرانی صدا ہے جوہمالیہ کی چوٹیوں سے لے کرسندھ کی وادیوں تک سنائی دیتی ہے۔ہمیں یادہے،ہم کو سب کچھ یادہے۔یہ انسانی تہذیب کے کنگرے پرلٹکتی ہوئی وہ آخری صداہے جوہمیں خبردارکررہی ہے۔ پاکستان اوربھارت،دوایٹمی قوتیں، آج زبانوں سے آگ برسارہی ہیں،اوریہ زبان کی بارودکسی روزاس دنیاکودہکتی، چنگھاڑتی آگ بناسکتی ہے۔
خودی کوکر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے،بتا تیری رضا کیا ہے
آئیے!پہلے سندھ طاس معاہدے کے متعلق جانتے ہیں کہ آخریہ پانی کے ہتھیار کا آغاز کہاں سے ہوا؟
میں سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا۔ یہ معاہدہ برصغیر کے بڑے دریائوں کے پانی کی تقسیم کاضابطہ فراہم کرتاہے۔معاہدے کے تحت تین مشرقی دریاستلج،بیاس،اورراویبھارت کودئیے گئے، جبکہ تین مغربی دریا سندھ، جہلم، اورچناب پاکستان کودیے گئے۔یہ معاہدہ اب تک خطے میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے امن کی بنیاد رہا ہے، باوجوداس کے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کئی جنگیں اورکشیدگیاں ہوئیں۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ حال ہی میں بھارت نے سندھ طاس معاہدے پردوبارہ غور کرنے یااس سے پیچھے ہٹنے کی بات کی ہے۔ بعض بھارتی رہنمائوں اورحکومتی بیانات میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ بھارت مغربی دریائوں کے پانی کومکمل طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرے گا،جس پر پاکستان کاانحصارہے۔بھارت کے اس موقف کو بعض مبصرین ’’پانی کوجنگی ہتھیار‘‘کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش قراردے رہے ہیں۔
بھارت نے مغربی دریائوں پرمتعددڈیم اور ہائیڈرو پاور جیسے کہ بگلیہار،کشن گنگا،اوررتلے ڈیم منصوبے شروع کیے ہیں،ان منصوبوں سے اگرچہ براہ راست پانی کارخ موڑناممکن نہیں، تاہم ان کی مددسے پانی کے بہائو کومحدودوقت کیلئے روکا جاسکتاہے،جوکہ فصلوں کیلئے اہم اوقات میں پاکستان کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ یادیگرعالمی پلیٹ فارمز پر سندھ طاس معاہدے کے بعض نکات پراعتراضات اٹھائے گئے اورپاکستان کی شکایات کے حل میں تاخیرکامعاملہ اب تک جاری ہے۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کابڑاانحصارزراعت پرہے اورزراعت کیلئے پانی کی مستقل فراہمی ناگزیرہے۔پانی کی کمی سے فصلوں کی پیداوارمتاثرہوسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کوپاکستان کی رگِ حیات سمجھاجاتاہے۔پاکستان کے کئی ہائیڈرو پاور منصوبے دریائوں کے پانی پرمنحصرہیں۔پانی کی کمی توانائی کے شعبے میں بھی بحران پیداکرسکتی ہے۔ دریائوں کے بہائو میں کمی سے ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہوسکتاہے،خاص طورپرسندھ ڈیلٹامیں نمکیات کا پھیلائو بڑھ سکتاہے اور برسوں سے یہ محسوس کیا جارہاتھاکہ مودی حکومت جوہندوقوم پرستی کی علمبردارکہلاتی ہے،یہ واضح ہوگیاتھاکہ پانی پر کشیدگی دونوں ملکوں کے درمیان مزیدتنائوکوجنم دے سکتی ہے،جوکہ خطے میں امن کیلئے خطرناک ہوگا اوراب یہ شک یقین کی شکل اختیار کرگیا ہے۔
عالمی برادری نے سندھ طاس معاہدے کوایک کامیاب ماڈل قراردیتے رہیں ہیں اوریہی وجہ ہے پاک وہندکی چارجنگوں کے باوجود اس معاہدے کوہتھیارکے طورپراستعمال کرنے کی کوشش نہیں کی گئی،یہی وجہ ہے عالمی برادری اس کی حفاظت پرزوردے رہی ہے ۔
مگراس سے پہلے کہ ہم اس اندھے کنویں میں جھانکیں،آئیں ذرا رک کرتاریخ سے کچھ سیکھ لیں۔کیاتم نے روم کی تباہی نہیں دیکھی؟ کیا بغدادکے جلتے ہوئے کتب خانے، تمہارے خوابوں میں نہیں آتے؟ کیا ہیروشیما اورناگاساکی کے سائے، آج بھی ہمارے ضمیر پر لرزہ طاری نہیں کرتے؟ کیا ہیروشیما اور ناگاساکی کے کھنڈرات کے مناظر اور مارے جانے والوں کی چیخیں تمہیں سنائی نہیں دے رہیں؟ کیا ہیروشیمااورناگاساکی کے نوحے ابھی تک تمہارے بہرے کانوں کے پردے پھاڑنے کیلئے کافی نہیں؟
یادرکھو!ایٹم بم صرف ہتھیارنہیںوہ نسلوں کا زہرہے۔ایک باروہ راکھ برسادے تو صدیوں تک صرف خاموشی جنم لیتی ہے،اوروہ بھی ایسی خاموشی جسے نہ اذان توڑتی ہے،نہ کسی مندر کا سنکھ، نہ کسی گرجاگھرکی گھنٹیاں،نہ ماں کی لوری، نہ بچے کی ہنسی۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے یہ وہ لمحہ ہے دریائوں کے پاکستان کی اس معاہدے تاریخ کی پانی کی نہیں یہ یہ وقت ہیں یہ

پڑھیں:

حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری

صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔

شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم