لاہور ،ڈمپر اور رکشہ میں تصادم، 5افراد جاں بحق ، 3زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 مئی2025ء) لاہور جی ٹی روڈ آخری منٹ سٹاپ باغبانپورہ کے قریب ڈمپر اور رکشہ کے مابین تصادم کےنتیجے میں 5افراد جاں بحق اور 3زخمی ہوگئے ۔
(جاری ہے)
ریسکیو 1122 کے مطابق بدھ کی صبح لاہور کے علاقہ باغبانپورہ آخری منٹ سٹاپ جی ٹی روڈ کے قریب ڈمپر اور رکشہ کے مابین خوفناک حادثہ پیش آیا ،اطلاع ملتے ہی ریسکیو ایمرجنسی گاڑیاں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اورڈمپر میں پھنسے ہوئے افراد کو نکال لیا۔5افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ زخمیوں کو ریسکیو کی جانب سے طبی امدا د کے لئے سروسز اور شالامار ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثہ ڈمپر کی بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیا جس نے3 رکشوں اور دو موٹر سائیکل سواروں کو متاثر کیا۔\932
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔