پاکستان اور بھارت کے درمیان حملے تھمنے کے بعد محاذ اب روایتی اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا جنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔بھارتی مرکزی میڈیا نے حالیہ دنوں میں کئی غیر معقول دعوے کیے، جن کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب نئی دہلی کے سوشل میڈیا صارفین نے اسی نوعیت کا ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے “ریپبلک آف بلوچستان” کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ شروع کر دیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ پاکستانی بلوچ عوام کی طرف سے چلایا جا رہا ہے.

تاہم   تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ ٹرینڈ دراصل بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلا رہے تھے۔نام نہاد بلوچ کارکن میر یار بلوچ کی جانب سے پاکستان سے آزادی کے اعلان کے بعد بدھ کے روز بھارت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر “ریپبلک آف بلوچستان” کا ٹرینڈ زوروں پر تھا۔بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے نام نہاد “آزاد بلوچستان” کا نقشہ اور ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں اس نام نہاد آزاد بلوچستان کے یوٹوپیا کے جھنڈے لہرائے جا رہے تھے۔میر یار نامی اکاؤنٹ نے کچھ تصاویر بھی شیئر کیں جن میں چند افراد ہاتھوں میں بھارت کے حق میں پلے کارڈز اٹھائے نظر آ رہے ہیں۔ اس اکاؤنٹ سے بھارتی وزیر اعظم کو مخاطب کرکے ایک پیغام میں کہا گیا کہ “نریندر مودی جی، آپ اکیلے نہیں ہیں. آپ کے ساتھ 60 ملین بلوچ محب وطن کھڑے ہیں۔”اس ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ “جمہوریہ بلوچستان کے عوام بھارت کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔” تاہم میر یار نامی یہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ جعلی معلوم ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر بھارت سے ہی چلایا جا رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خضدار میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی عوام دشمن کارروائی، شہری کی ڈیزل سے بھری گاڑی نذر آتش
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری