پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات پر مبنی ایک اور ویڈیو لیک
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات پر مبنی ایک اور ویڈیو لیک ہوگئی۔
پی ٹی آئی وومن ونگ کی صدر کنول شوزب نے ویڈیو میں علیمہ خانم پر پارٹی خراب کرنے کی کوششوں کا الزام لگایا ہے۔
ویڈیو میں کنول شوزب نے کہا کہ علیمہ خانم نے سیاست کرنی ہے تو کھل کر پارٹی میں آئیں، انہوں نے کیوں کہا کہ بیرسٹر گوہر کون ہے، چیئرمین تو بانی ہیں۔کنول شوزب کا کہنا ہے کہ علیمہ خانم بھول رہی ہیں کہ بیرسٹر گوہر کو چیئرمین عمران خان نے نامزد کیا ہے، اگر عہدے کی اور تنظیم کی عزت نہیں تو کیا فائدہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب جس دن بھی علیمہ آپا سے ملاقات ہوگی میں ان سے لڑوں گی، ٹکے ٹکے کے لوگ پارٹی چیئرمین کو بے عزت کرتے ہیں۔بعدازاں ویڈیو لیک ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے کنول شوزب نے کہا کہ کلپ سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے، کلپ وومن ونگ کی انٹرنل میٹنگ سے ریکارڈ کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کنول شوزب
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔