Express News:
2026-06-03@06:08:52 GMT

77 وا ں یوم نکبہ: ہم واپس آئیں گے

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

فلسطین جس کو انبیاء کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے اور تین آسمانی مذاہب کے مقدسات اس سرزمین مقدس پر موجود بھی ہیں۔ فلسطین سیاسی، معاشی اور فوجی لحاظ سے ہر طرح ایک اہمیت رکھنے والی جگہ کا نام ہے۔ اسی سرزمین فلسطین پر دنیا بھر سے جمع ہونیوالے صیہونیوں نے قبضہ کیا۔

1896 میں تھیوڈر ہرٹزل کی شروع کردہ تحریک آخرکار 1948میں فلسطین میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے قیام کے ساتھ اختتام پذیر نہیں ہوئی بلکہ اس قبضہ اور جارحیت نے ایک نئی شکل اختیار کرتے ہوئے پوری دنیا کے امن کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔15مئی1948 کو برطانیہ ، فرانس اور امریکا کی سازشوں کے نتیجے میں دنیا بھر سے لا کر آباد کیے گئے صیہونیوںکے لیے سرزمین فلسطین پر ایک نئی ریاست اسرائیل کا اعلان کردیا گیا۔ یعنی فلسطین پر باقاعدہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے تسلط کا اعلان ہوا۔

اس اعلان کے ساتھ ہی ان صیہونیوں کو کھلی چھٹی دی گئی کہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کریں اور جتنا چاہے قتل عام کریں۔ تاریخ کے اوراق کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غاصب صیہونیوں نے صرف ایک دن یعنی 15مئی 1948کے دن فلسطین کے 600 دیہاتوں اور قصبوں کو اپنی دہشت گردی اور سفاکیت کا نشانہ بنایا۔ ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ خواتین کی آبروریزی کی گئی۔

 پانی کی لائن میں زہریلے مواد ڈال کر معصوم انسانوں کو موت کی نیند سلایا گیا۔ کھیتوں اور کھلیانوں میں کام کرنیوالے پالتو مویشیوں کو بھی صیہونیوں نے نہیں بخشا۔ پندرہ لاکھ فلسطینیوں کو جبری طور پر ان کے اپنے گھروں سے بے دخل کیا اور مجبور کیا کہ وہ فلسطین سے باہر نکل جائیں یعنی جبری ہجرت کروائی۔

آج بھی غزہ میں غاصب صیہونی دشمن غزہ کے بائیس لاکھ لوگوں کو غزہ سے جبری طور پر ہجرت کروانے کے لیے نسل کشی اور جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔فلسطینیوں نے 15مئی 1948 کے دن کو نکبہ کا نام دیا ہے۔

نکبہ یعنی ایک بہت بڑی تباہی اور بربادی، یقینا جس قوم سے اس کا وطن چھین لیا جائے اور اس کو در بدر کردیا جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا تباہی اور بربادی ہو سکتی ہے؟ یقیناً یہ دن فلسطینی عوام کے ساتھ ساتھ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے بھی تباہی اور بربادی کا دن ہے کہ جہاں ایک طرف انسانوں کو قتل کیا گیا اور بد ترین ظلم اور دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا، وہاں ساتھ ہی دوسری طرف ایک قوم اور ملک پر شب خون مارکر ان کے وطن کے اندر ایک نیا غاصب ملک قائم کردیا گیا۔

لہٰذا تاریخی اور اخلاقی و سیاسی اعتبار سے فلسطین میں قائم ہونے والی صیہونیوں کی اس ریاست کو ہمیشہ ناجائز ہی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی فلسطین میں غاصبانہ انداز میں قائم کی گئی اسرائیلی ریاست کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں ناجائز ہی قرار دیا ہے۔

یوم نکبہ پر دنیا بھر میں فلسطینی شہری اپنی مظلومیت کی داستان کی یاد مناتے ہیں اور دنیا کو بیدار کرتے ہیں، لیکن آج فلسطین کی سرزمین روزانہ ہی 1948 جیسے نکبہ سے گزر رہی ہے۔ فلسطینیوں کا ہر گزرنیوالا دن ایک نیا نکبہ ہے جو تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔

 آج بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ ان کو اپنے ہی گھروں سے نکالنے کی سازش ہو رہی ہے۔ ان کے وطن کو مکمل طور پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن فلسطینی عوام کی استقامت اور شجاعت کے سامنے تمام تر سازشیں ناکام ہو رہی ہیں۔ فلسطینی عوام نے اس سال نکبہ پر شعار دیا ہے کہ ہم واپس فلسطین آئیں گے۔

دنیا بھر میں اس شعار کی حمایت کی جا رہی ہے۔  فلسطینی عوام پر 77سال سے نکبہ ڈھایا جا رہا ہے۔ فلسطینی عوام کا ایک ہی دیرینہ مطالبہ ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور اسرائیل غاصب صیہونیوں کی ایک ناجائز ریاست ہے۔ فلسطینی عوام آج بھی اپنے گھروں کی چابیاں لیے اپنے وطن اور گھروں میں واپس آنے کی امید سے دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ گزینوں کی زندگیاں بسر کررہے ہیں۔

آج ضرورت اس امرکی ہے کہ جو کوئی بھی فلسطین کی حمایت کرنا چاہتا ہے فلسطینی عوام کی خواہشات اور ان کے مطالبات کی حمایت کرے۔ فلسطین کے عوام کا مطالبہ ہی ہمارا مطالبہ ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے۔ آج فلسطین کی دشمن قوتوں کا ارادہ ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلہ کو فراموش کر دیں اور فلسطین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کا قصہ بن کر رہ جائے، لیکن غزہ کی مزاحمت نے دشمن کو ناکام کردیا ہے۔

 آئیں ! فلسطینیوں پر گزرنے والے نکبہ کے خلاف متحد ہو جائیں اور یہ عہد کریں کہ فلسطین دشمن قوتیں چاہے وہ امریکا اور اسرائیل ہو یا برطانیہ اور فرانس یا کوئی بھی حکومت اور عناصر ہوں ان کے مقابلے میں فلسطین کا دفاع اولین ترجیح بنائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلسطینیوں کا فلسطینی عوام کہ فلسطین دنیا بھر کے ساتھ دیا ہے رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید