اسکرین گریب

چیف آف دی ایئر اسٹاف ظہیر احمد بابر سدھو نے راولپنڈی میں شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف  کے گھر جا کر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی، انہوں نے شہید کے اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت کیا، اس دوران شہید کے بلندی درجات کےلیے فاتحہ خوانی بھی کی۔ 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف نے دشمن کے حملے کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔

ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے دشمن کا بہادری سے مقابلے کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرنے پر شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

صدر اور وزیراعظم کی شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کے گھر آمد

صدرِ مملکت آصف علی ذرداری نے دفاعِ وطن میں جان کا نذرانہ دینے پر شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے شہداء کی خدمات اور قربانیاں ہمیشہ قومی یادداشت کا حصہ رہیں گی، شہدا کو بھرپور عقیدت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

آئی ایس پی آر  کے مطابق  ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سی ایم ایچ راولپنڈی کا دورہ بھی کیا۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کے حوصلے اور عزم کی تعریف کی۔

انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں اور انتظامی معاونت فراہم کی جائے۔ 

ایئر چیف مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئر فورس ہر قیمت پر وطنِ عزیز کی فضائی سرحدوں کا دفاع جاری رکھے گی، پاکستان ایئر فورس اپنے جانثاروں کی شجاعت و قربانی کی عظیم روایات کو زندہ رکھے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف ظہیر احمد

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار