ناسا کو ہیک کرنے والے بنگلہ دیشی نوجوان کو خلائی ایجنسی سے تعریفی خط موصول
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
ڈھاکا(نیوز ڈیسک)بنگلہ دیش کے 17 سالہ خود سیکھے ہوئے ”ایتھیکل ہیکر“ محمد شریار شنعاز شووون نے امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائبر سیکیورٹی سسٹم میں ایک نہایت اہم خامی دریافت کی جس پر ناسا نے اُنہیں آفیشل تعریفی خط جاری کیا ہے۔
محمد شریار کا تعلق شیرپور کے علاقے جھیناگاتی سے ہے۔ اُنہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم جھیناگاتی گورنمنٹ ماڈل پائلٹ ہائی اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں یونیورسٹی آف سائبر جایا ملائیشیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ کے لیے داخلہ لیا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ ایک معروف ٹیکنالوجی کمپنی ERTH (Blue Bee Technologies Sdn.
محمد شریار نے بتایا کہ اُن کی دلچسپی سائبر سیکیورٹی میں ساتویں جماعت سے شروع ہوئی۔ وہ مختلف یوٹیوب کورسز، کتابوں اور پی ڈی ایف مواد سے خود سیکھتے رہے۔ آٹھویں جماعت تک وہ بگ ہنٹنگ، ہیکاتھونز اور مختلف ٹیک شعبوں میں مہارت حاصل کر چکے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے گرافک ڈیزائن، ایس ای او اور ویڈیو ایڈیٹنگ کا بھی شوق رہا لیکن سائبر سیکیورٹی میرا اصل جنون ہے۔‘
11 جون 2024 کو محمد شریار نے ناسا کے سسٹم میں ایک پرائیویسی سے متعلق خطرناک خامی دریافت کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے دیگر ہیکرز کے معلوم کردہ نقصانات کا مطالعہ کیا اور پھر مختلف تکنیکس کو جوڑ کر IDOR (Insecure Direct Object Reference) اور SSRF (Server-Side Request Forgery) طریقے سے ناسا کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی۔
ان کے مطابق: ’میں نے ایک ایسا بگ دریافت کیا جس سے زمین کے ڈیٹا اور نجی معلومات تک رسائی ممکن تھی۔ اس سے کوئی بھی شخص فشنگ حملے، ڈیٹا کی فروخت یا دیگر غیر اخلاقی سرگرمیاں انجام دے سکتا تھا۔ میں نے فوری طور پر یہ خامی ناسا کو رپورٹ کی اور انہوں نے سسٹم کو درست کیا۔‘
انہوں نے ناسا کے Vulnerability Disclosure Policy (VDP) کے تحت یہ رپورٹ جمع کروائی جو کہ ایک قانونی طریقہ ہے جس کے ذریعے ہیکرز سیکیورٹی مسائل سے اداروں کو آگاہ کرتے ہیں۔ فروری 2025 میں ناسا نے اُنہیں سرکاری تعریفی خط جاری کر کے اُن کے پیشہ ورانہ اور اخلاقی رویے کی سراہنا کی۔
ناسا کے علاوہ محمد شریار نے Sony اور Meta جیسے عالمی اداروں کے سسٹمز میں بھی اہم خامیاں دریافت کیں۔ سونی میں انہوں نے IDOR بگ تلاش کیا جبکہ میٹا میں ایک پرائیویسی خرابی دریافت کی جس سے چھپی ہوئی رِی ایکشنز کو کوڈ کی مدد سے دیکھا جا سکتا تھا۔
محمد شریار کہتے ہیں، ’میں خاص طور پر دو قسم کے بگز پر کام کرتا ہوں، IDOR اور انفارمیشن ڈسکلوزر بگز، یہ میری مہارت ہے۔‘
محمد شریار نے TryHackMe جیسے عالمی پلیٹ فارم پر بھی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گلوبل رینک 1 حاصل کیا جہاں دنیا بھر سے 2 ملین سے زائد صارفین سائبر سیکیورٹی کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔
اپنے تکنیکی طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے محمد شریار نے بتایا کہ وہ عام طور پر Burp Suite، Nuclei، Google Dorks اور دیگر پلیٹ فارمز جیسے HackerOne اور Bugcrowd استعمال کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ’ٹولز مددگار ہوتے ہیں لیکن اصل کامیابی ہیکر کی سوچ میں ہوتی ہے جو دوسروں سے ہٹ کر سوچ سکے۔‘
مزیدپڑھیں:واٹس ایپ ڈی پی ؛ واٹس ایپ کا حیران کن فیچر سامنے آگیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سائبر سیکیورٹی محمد شریار نے دریافت کی انہوں نے ناسا کے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :