وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں ایک ہزار ارب روپے وفاقی جبکہ 2869 بلین روپے صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات کے لیے مختص کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں قومی اقتصادی کونسل کے 6 نکاتی ایجنڈے کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں آئندہ بجٹ کی تیاریاں جاری، نان فائلرز کے لیے بُری خبر آگئی

اجلاس کو مالی سال 25-2024 میں معیشت کی کارکردگی کے حوالے سے نظر ثانی شدہ اشاریے پیش کیے گئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 25-2024 میں 3483 بلین روپے سالانہ قومی ترقیاتی پروگرام پر خرچ کیے جا رہے ہیں، جس میں 1100 بلین روپے وفاق جبکہ 2383 بلین روپے صوبوں کا حصہ ہے۔

اجلاس نے 25-2024 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کی 2.

7 فیصد شرح نمو اور اگلے مالی سال کے لیے 4.2 فیصد شرح نمو کی منظوری دے دی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جولائی 2024 تا اپریل 2025 ترسیلات زر میں 30.9 فیصد اضافہ ہوا اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس پہلی مرتبہ مثبت رہا۔

مالیاتی خسارہ مزید کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار کا 2.6 فیصد رہا، اجلاس کو بریفنگ

اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 25-2024 میں مالیاتی خسارہ مزید کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار کا 2.6 فیصد رہا جبکہ پرائمری بیلنس اضافے کے بعد مجموعی قومی پیداوار کا 3 فیصد رہا۔

حکام نے بتایا کہ حکومتی پالیسیوں اور اقدامات سے پالیسی ریٹ بتدریج کمی کے بعد 11 فیصد پر آیا جبکہ جولائی 2024 سے مئی 2025 تک نجی شعبے کی ترقی کے لیے دیے جانے والے قرضے بڑھ کر 681 ارب تک پہنچ گئے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ 25-2024 میں مجموعی قومی پیداوار کا حجم 114 ٹریلین روپے یا 411 ارب ڈالر ہوگا۔

اجلاس نے 26-2025 کے لیے 4224 بلین روپے کے قومی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جس میں ایک ہزار ارب روپے وفاقی جبکہ 2869 بلین روپے صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات کے لیے مختص ہوں گے۔ اجلاس نے مالی سال 26-2025 کے لیے میکرو اکنامک فریم ورک اور اہداف کی منظوری دے دی۔

قومی اقتصادی کونسل نے متعلقہ وزارتوں، صوبوں اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ مجوزہ سالانہ پلان 26-2025 کے اہداف کے حصول کے لیے وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ان ترقیاتی منصوبوں میں صحت، تعلیم، انفرا سٹرکچر، واٹر سیکٹر اور ہاؤسنگ کے شعبوں کو ترجیح دی جائے گی۔

قومی اقتصادی کونسل کو اپریل 2024 سے مارچ 2025 تک سی ڈی ڈبلیو پی کی پیشرفت پر رپورٹ پیش کی گئی۔

اجلاس میں اپریل 2024 سے مارچ 2025 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک سے منظور کیے گئے قومی ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل بھی پیش کی گئی۔ اجلاس نے 13ویں 5 سالہ منصوبے (29-2024) کی منظوری دی۔

قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں اڑان پاکستان فریم ورک کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 13 واں پانچ سالہ منصوبہ اور اڑان پاکستان باہمی طور پر ہم آہنگ ہیں۔

اجلاس کو سالانہ قومی ترقیاتی پروگرام کے منصوبوں کی تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں مستقبل کے منصوبوں کی پلاننگ کی جائے۔

وزیراعظم نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے تمام نکات کی اتفاق رائے سے منظوری پر شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ قومی امور پر اسی طرح اتفاق رائے پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور قومی اقتصادی کونسل کے دیگر ارکان شریک تھے۔

بھارت کا پاکستان کے خلاف حالیہ بیانیہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم نے اجلاس کے شرکا کو 10 مئی کے معرکہ حق میں پاکستان کی تاریخ ساز فتح پر مبارکباد پیش کی، اور کہاکہ پاک افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور دلیری کی بدولت معرکہ حق میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح سے نوازا۔

انہوں نے کہاکہ بھارت کا پاکستان کے خلاف حالیہ بیانیہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے جس سے خطے میں امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستانی عوام ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھارت کے خلاف مکمل طور پر یکجا ہیں، بھارت کی پاکستان کو آبی وسائل سے محروم کرنے کی دھمکیاں نا قابل قبول ہیں۔

’آبی وسائل کے تحفظ کی جدوجہد میں بھی بھارت کو شکست دیں گے‘

انہوں نے کہاکہ ہم معرکہ حق کے بعد آبی وسائل کے تحفظ کی جدوجہد میں بھی انشااللہ بھارت کو شکست دیں گے، تمام وزرائے اعلیٰ کے ساتھ خصوصی اجلاس میں بھارتی جارحیت کے تناظر میں پاکستان کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے مضبوط حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ وفاق اور صوبے مل کر پاکستان کے آبی وسائل کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوں گے، ملک میں حالیہ معاشی استحکام وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کاوشوں کی بدولت ممکن ہوا۔

یہ بھی پڑھیں آئندہ بجٹ میں آئی ٹی پروجیکٹس کے لیے 6 ارب روپے مختص

انہوں نے کہاکہ ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، زرعی شعبہ ملکی زر مبادلہ میں اضافے اور شرح نمو میں اضافے کے لیے مرکزی کردار ادا کرتا ہے، زرعی پیداوار میں بتدریج اضافے کے لیے حکمت عملی تشکیل دی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایجنڈے کی منظوری شہباز شریف قومی اقتصادی کونسل منصوبے منظور وزیراعظم پاکستان وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایجنڈے کی منظوری شہباز شریف قومی اقتصادی کونسل وزیراعظم پاکستان وی نیوز قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس مجموعی قومی پیداوار کا ترقیاتی منصوبوں انہوں نے کہاکہ قومی ترقیاتی بتایا گیا کہ پاکستان کے اجلاس میں بلین روپے کی منظوری اجلاس کو اجلاس نے مالی سال کے تحفظ پیش کی کے لیے

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی