WE News:
2026-07-24@07:17:44 GMT

’فریڈم فلوٹیلا میڈلین نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ‘

اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT

’فریڈم فلوٹیلا میڈلین نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ‘

9 جون 2025 کو اسرائیلی فوجوں نے بین الاقوامی پانیوں میں میڈلین جہاز کو روک لیا، جو غزہ پٹی کے ساحل کے قریب تھا۔ اس جہاز پر 7 ممالک کے 12 کارکنان اور انسانی امداد کے ساتھ ساتھ خوراک کی سپلائی تھی، جو ایک ہفتے سے زائد عرصے سے سفر کر رہا تھا۔

ان کارکنان میں سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں، جنہیں فلسطینی جدوجہد کی حمایت کرنے پر اسرائیلی سیاستدانوں اور دیگر کی طرف سے مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل نے امدادی سامان غزہ پہنچانے والا بحری جہاز بمباری سے تباہ کردیا

جہاز پر موجود امداد علامتی تھی اور اگر یہ غزہ کے بھوکے فلسطینیوں تک پہنچ بھی جاتی تو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روزانہ کم از کم 500 ٹرک امداد کی ضرورت ہے۔ یہ بھی توقع کی جا رہی تھی کہ اسرائیلی فوجیں اسے غزہ کے ساحل تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیں گی۔

تاہم میڈلین نے ایک اہم مشن سر انجام دیا۔ اس نے دنیا اور ان حکومتوں کو جو غزہ میں نسل کشی کو روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کے اپنے بین الاقوامی قانونی فرائض سے انکار کر رہی ہیں، ایک واضح پیغام دیا کہ غزہ کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔

گریٹا تھنبرگ

میڈلین کو فریڈم فلوٹیلا کوآلیشن (FFC) نے منظم کیا تھا، جو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کی مہم چلاتا ہے۔ گزشتہ مہینے ان کا ایک اور جہاز کونشنس مالٹا کے علاقائی پانیوں سے باہر ڈرون حملے کا نشانہ بنا، جس کی وجہ سے وہ غزہ تک اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکا۔

غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوششیں 

FFC غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی ڈیڑھ دہائی سے جاری جدوجہد کا حصہ ہے۔ 2010 میں ترکی سے 6 جہازوں کا ایک بیڑا غزہ کی طرف روانہ ہوا، لیکن اسرائیلی فوجوں نے بین الاقوامی پانیوں میں اسے روک لیا۔ سب سے بڑے جہاز ماوی مرمرہ پر اسرائیلی کمانڈوز نے حملہ کیا اور 9 کارکنان اور صحافیوں کو ہلاک کر دیا۔جن میں سے تمام ترکی کے شہری تھے۔ آج تک، ماوی مرمرہ کے متاثرین کو انصاف نہیں ملا۔

اس واقعے کے بعد، نوم چومسکی نے لکھا:

’دہائیوں سے اسرائیل قبرص اور لبنان کے درمیان بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کو ہائی جیک کرتا آیا ہے، مسافروں کو ہلاک یا اغوا کرتا ہے، کبھی انہیں اسرائیل کے خفیہ جیل/تشدد خانوں میں لے جاتا ہے، تو کبھی سالوں تک یرغمال بنا کر رکھتا ہے۔ اسرائیل کو یقین ہے کہ وہ امریکا کی خاموشی اور یورپ کی بے عملی کی وجہ سے ایسے جرائم بے سزا کر سکتا ہے‘۔

بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی 

بین الاقوامی قانون کے تحت، ماوی مرمرہ اور میڈلین دونوں کو روکنا غیر قانونی ہے۔ اسرائیلی فوجوں کو بین الاقوامی پانیوں میں کارکنان کو حراست میں لینے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔ جیسا کہ فلسطینی نژاد امریکی وکیل حویدہ عرف اور FFC کی منتظمہ نے کہا:

’یہ رضاکار اسرائیلی دائرہ اختیار میں نہیں آتے اور نہ ہی امداد پہنچانے یا غیر قانونی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے پر مجرم ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ ان کی حراست غیر قانونی ہے اور فوری طور پر ختم ہونی چاہیے‘۔(یاد رہے کہ اسرائیلی گریٹا تھاپر سمیت تمام گرفتار زدگان کو ملک بدر کر دیا ہے)۔

غزہ کا سمندری محاصرہ 

غزہ بحیرہ روم کے کنارے واقع ہے، لیکن دہائیوں سے ہمسایہ ممالک سے بالکل کٹا ہوا ہے۔ اسرائیلی فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی 2007 سے جاری ہے، لیکن اس سے پہلے بھی اسرائیلی بحریہ غزہ کے ساحلوں تک رسائی پر پابندیاں عائد کرتی رہی ہے۔

1993 کے اوسلو معاہدے نے فلسطینیوں کو اپنے پانیوں پر مکمل خودمختاری نہیں دی، بلکہ صرف 20 ناٹیکل میل (37 کلومیٹر) تک ماہی گیری، سیاحت اور قدرتی وسائل (جیسے گیس) کے استعمال کی اجازت دی۔ یہ UN کنونشن ’آن دی لا آف دی سی‘ کے تحت خودمختار ممالک کو دیے گئے 200 ناٹیکل میل کے حق کا صرف 10 فیصد ہے۔  لیکن اسرائیل نے ان 20 ناٹیکل میل کو بھی کبھی تسلیم نہیں کیا، بلکہ فلسطینی ماہی گیروں کو ساحل کے چھوٹے سے چھوٹے حصے تک محدود کر دیا۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کو بیرونی دنیا سے بالکل کاٹ دیا ہے اور غزہ کی ماہی گیری کی روایت اور صنعت کو تباہ کر دیا ہے۔

ماہی گیروں پر حملے 

ماہی گیروں کو انتہائی محدود علاقے میں مچھلیاں پکڑنے پر مجبور کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے سمندری وسائل کا شدید استعمال ہوا ہے۔ نسل کشی کے آغاز کے بعد سے غزہ کے ماہی گیروں کو نشانہ بنایا گیا، ان کے جہازوں کو بمباری سے تباہ کیا گیا اور ان کا سامان ضائع کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا غزہ جانے والی امدادی کشتی پر چھاپہ، گریٹا تھنبرگ اور گیم آف تھرونز کے اداکار سمیت تمام کارکن گرفتار

انہی تباہ حال ماہی گیروں میں میڈلین کلب بھی ہیں، غزہ کی واحد فلسطینی خاتون ماہی گیر، جن کے نام پر فریڈم فلوٹیلا نے جہاز کا نام رکھا تھا۔ 4 بچوں کی ماں میڈلین کو نسل کشی کے دوران بارہا بے گھر کیا گیا اور اب وہ اپنے تباہ شدہ گھر میں پناہ لے چکی ہیں۔ ان کی ماہی گیری کے دن ختم ہو چکے ہیں۔

یورپی حکومتوں کی بے حسی 

بین الاقوامی قانون کے تحتUN  رکن ممالک پر فرض ہے کہ وہ نسل کشی جیسے سنگین جرائم کے خلاف کارروائی کریں۔ ان پر پابندیاں عائد کرنے بشمول ہتھیاروں پر پابندی، کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن یورپی یونین جہاں سے میڈلین کے زیادہ تر کارکن تعلق رکھتے ہیں، نے نہ صرف یہ ذمہ داری ترک کی ہے، بلکہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ حالانکہ یورپی عوام کی اکثریت اسرائیلی حکومت اور اس کی جاری نسل کشی کی مخالف ہے۔

آخری پیغام 

میڈلین کے کارکن جانتے تھے کہ وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے، لیکن انہوں نے یکجہتی کا یہ خطرناک اقدام اس لیے کیا تاکہ دنیا کی توجہ دوبارہ غزہ پر مرکوز ہو اور اپنی حکومتوں کی مجرمانہ بے عملی کو اجاگر کیا جا سکے۔ جیسا کہ گریٹا تھنبرگ نے کہا:

’ہم یہ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں کوشش جاری رکھنی ہے، چاہے مشکلات کچھ بھی ہوں۔ کیونکہ جس دن ہم کوشش کرنا چھوڑ دیں گے، اس دن ہم اپنی انسانیت کھو دیں گے‘۔

میڈلین کو تو سمندر میں روک لیا گیا، لیکن اس کا یہ پیغام دور تک پہنچ چکا ہے:

’ناکہ بندی ختم ہوگی، اور فلسطینی آزادی تک سمندر جدوجہد کا ایک اہم محاذ رہے گا‘۔

۔۔۔۔۔۔

الجزیرہ میں شائع مضمون کی مصنفہ ’یارا ہواری‘ فلسطینی پالیسی نیٹ ورک الشباکا کی شریک ڈائریکٹر ہیں۔ وہ اس سے قبل فلسطین پالیسی فیلو اور سینیئر تجزیہ کار کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ یارا نے اپنی پی ایچ ڈی یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں مکمل کی، جہاں اس نے مختلف انڈرگریجویٹ کورسز پڑھائے اور ایک اعزازی ریسرچ فیلو بنی رہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل غزہ فریڈم فلوٹیلا فلسطین گریٹا تھنبرگ میڈلین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل فریڈم فلوٹیلا فلسطین گریٹا تھنبرگ میڈلین بین الاقوامی پانیوں میں فریڈم فلوٹیلا گریٹا تھنبرگ ماہی گیروں ناکہ بندی لیکن اس غزہ کی کر دیا غزہ کے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم