’فریڈم فلوٹیلا میڈلین نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ‘
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
9 جون 2025 کو اسرائیلی فوجوں نے بین الاقوامی پانیوں میں میڈلین جہاز کو روک لیا، جو غزہ پٹی کے ساحل کے قریب تھا۔ اس جہاز پر 7 ممالک کے 12 کارکنان اور انسانی امداد کے ساتھ ساتھ خوراک کی سپلائی تھی، جو ایک ہفتے سے زائد عرصے سے سفر کر رہا تھا۔
ان کارکنان میں سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں، جنہیں فلسطینی جدوجہد کی حمایت کرنے پر اسرائیلی سیاستدانوں اور دیگر کی طرف سے مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل نے امدادی سامان غزہ پہنچانے والا بحری جہاز بمباری سے تباہ کردیا
جہاز پر موجود امداد علامتی تھی اور اگر یہ غزہ کے بھوکے فلسطینیوں تک پہنچ بھی جاتی تو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روزانہ کم از کم 500 ٹرک امداد کی ضرورت ہے۔ یہ بھی توقع کی جا رہی تھی کہ اسرائیلی فوجیں اسے غزہ کے ساحل تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیں گی۔
تاہم میڈلین نے ایک اہم مشن سر انجام دیا۔ اس نے دنیا اور ان حکومتوں کو جو غزہ میں نسل کشی کو روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کے اپنے بین الاقوامی قانونی فرائض سے انکار کر رہی ہیں، ایک واضح پیغام دیا کہ غزہ کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔
میڈلین کو فریڈم فلوٹیلا کوآلیشن (FFC) نے منظم کیا تھا، جو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کی مہم چلاتا ہے۔ گزشتہ مہینے ان کا ایک اور جہاز کونشنس مالٹا کے علاقائی پانیوں سے باہر ڈرون حملے کا نشانہ بنا، جس کی وجہ سے وہ غزہ تک اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکا۔
غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوششیںFFC غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی ڈیڑھ دہائی سے جاری جدوجہد کا حصہ ہے۔ 2010 میں ترکی سے 6 جہازوں کا ایک بیڑا غزہ کی طرف روانہ ہوا، لیکن اسرائیلی فوجوں نے بین الاقوامی پانیوں میں اسے روک لیا۔ سب سے بڑے جہاز ماوی مرمرہ پر اسرائیلی کمانڈوز نے حملہ کیا اور 9 کارکنان اور صحافیوں کو ہلاک کر دیا۔جن میں سے تمام ترکی کے شہری تھے۔ آج تک، ماوی مرمرہ کے متاثرین کو انصاف نہیں ملا۔
اس واقعے کے بعد، نوم چومسکی نے لکھا:
’دہائیوں سے اسرائیل قبرص اور لبنان کے درمیان بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کو ہائی جیک کرتا آیا ہے، مسافروں کو ہلاک یا اغوا کرتا ہے، کبھی انہیں اسرائیل کے خفیہ جیل/تشدد خانوں میں لے جاتا ہے، تو کبھی سالوں تک یرغمال بنا کر رکھتا ہے۔ اسرائیل کو یقین ہے کہ وہ امریکا کی خاموشی اور یورپ کی بے عملی کی وجہ سے ایسے جرائم بے سزا کر سکتا ہے‘۔
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیبین الاقوامی قانون کے تحت، ماوی مرمرہ اور میڈلین دونوں کو روکنا غیر قانونی ہے۔ اسرائیلی فوجوں کو بین الاقوامی پانیوں میں کارکنان کو حراست میں لینے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔ جیسا کہ فلسطینی نژاد امریکی وکیل حویدہ عرف اور FFC کی منتظمہ نے کہا:
’یہ رضاکار اسرائیلی دائرہ اختیار میں نہیں آتے اور نہ ہی امداد پہنچانے یا غیر قانونی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے پر مجرم ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ ان کی حراست غیر قانونی ہے اور فوری طور پر ختم ہونی چاہیے‘۔(یاد رہے کہ اسرائیلی گریٹا تھاپر سمیت تمام گرفتار زدگان کو ملک بدر کر دیا ہے)۔
غزہ کا سمندری محاصرہغزہ بحیرہ روم کے کنارے واقع ہے، لیکن دہائیوں سے ہمسایہ ممالک سے بالکل کٹا ہوا ہے۔ اسرائیلی فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی 2007 سے جاری ہے، لیکن اس سے پہلے بھی اسرائیلی بحریہ غزہ کے ساحلوں تک رسائی پر پابندیاں عائد کرتی رہی ہے۔
1993 کے اوسلو معاہدے نے فلسطینیوں کو اپنے پانیوں پر مکمل خودمختاری نہیں دی، بلکہ صرف 20 ناٹیکل میل (37 کلومیٹر) تک ماہی گیری، سیاحت اور قدرتی وسائل (جیسے گیس) کے استعمال کی اجازت دی۔ یہ UN کنونشن ’آن دی لا آف دی سی‘ کے تحت خودمختار ممالک کو دیے گئے 200 ناٹیکل میل کے حق کا صرف 10 فیصد ہے۔ لیکن اسرائیل نے ان 20 ناٹیکل میل کو بھی کبھی تسلیم نہیں کیا، بلکہ فلسطینی ماہی گیروں کو ساحل کے چھوٹے سے چھوٹے حصے تک محدود کر دیا۔
اسرائیل نے فلسطینیوں کو بیرونی دنیا سے بالکل کاٹ دیا ہے اور غزہ کی ماہی گیری کی روایت اور صنعت کو تباہ کر دیا ہے۔
ماہی گیروں پر حملےماہی گیروں کو انتہائی محدود علاقے میں مچھلیاں پکڑنے پر مجبور کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے سمندری وسائل کا شدید استعمال ہوا ہے۔ نسل کشی کے آغاز کے بعد سے غزہ کے ماہی گیروں کو نشانہ بنایا گیا، ان کے جہازوں کو بمباری سے تباہ کیا گیا اور ان کا سامان ضائع کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا غزہ جانے والی امدادی کشتی پر چھاپہ، گریٹا تھنبرگ اور گیم آف تھرونز کے اداکار سمیت تمام کارکن گرفتار
انہی تباہ حال ماہی گیروں میں میڈلین کلب بھی ہیں، غزہ کی واحد فلسطینی خاتون ماہی گیر، جن کے نام پر فریڈم فلوٹیلا نے جہاز کا نام رکھا تھا۔ 4 بچوں کی ماں میڈلین کو نسل کشی کے دوران بارہا بے گھر کیا گیا اور اب وہ اپنے تباہ شدہ گھر میں پناہ لے چکی ہیں۔ ان کی ماہی گیری کے دن ختم ہو چکے ہیں۔
یورپی حکومتوں کی بے حسیبین الاقوامی قانون کے تحتUN رکن ممالک پر فرض ہے کہ وہ نسل کشی جیسے سنگین جرائم کے خلاف کارروائی کریں۔ ان پر پابندیاں عائد کرنے بشمول ہتھیاروں پر پابندی، کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن یورپی یونین جہاں سے میڈلین کے زیادہ تر کارکن تعلق رکھتے ہیں، نے نہ صرف یہ ذمہ داری ترک کی ہے، بلکہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ حالانکہ یورپی عوام کی اکثریت اسرائیلی حکومت اور اس کی جاری نسل کشی کی مخالف ہے۔
آخری پیغاممیڈلین کے کارکن جانتے تھے کہ وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے، لیکن انہوں نے یکجہتی کا یہ خطرناک اقدام اس لیے کیا تاکہ دنیا کی توجہ دوبارہ غزہ پر مرکوز ہو اور اپنی حکومتوں کی مجرمانہ بے عملی کو اجاگر کیا جا سکے۔ جیسا کہ گریٹا تھنبرگ نے کہا:
’ہم یہ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں کوشش جاری رکھنی ہے، چاہے مشکلات کچھ بھی ہوں۔ کیونکہ جس دن ہم کوشش کرنا چھوڑ دیں گے، اس دن ہم اپنی انسانیت کھو دیں گے‘۔
میڈلین کو تو سمندر میں روک لیا گیا، لیکن اس کا یہ پیغام دور تک پہنچ چکا ہے:
’ناکہ بندی ختم ہوگی، اور فلسطینی آزادی تک سمندر جدوجہد کا ایک اہم محاذ رہے گا‘۔
۔۔۔۔۔۔
الجزیرہ میں شائع مضمون کی مصنفہ ’یارا ہواری‘ فلسطینی پالیسی نیٹ ورک الشباکا کی شریک ڈائریکٹر ہیں۔ وہ اس سے قبل فلسطین پالیسی فیلو اور سینیئر تجزیہ کار کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ یارا نے اپنی پی ایچ ڈی یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں مکمل کی، جہاں اس نے مختلف انڈرگریجویٹ کورسز پڑھائے اور ایک اعزازی ریسرچ فیلو بنی رہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل غزہ فریڈم فلوٹیلا فلسطین گریٹا تھنبرگ میڈلین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل فریڈم فلوٹیلا فلسطین گریٹا تھنبرگ میڈلین بین الاقوامی پانیوں میں فریڈم فلوٹیلا گریٹا تھنبرگ ماہی گیروں ناکہ بندی لیکن اس غزہ کی کر دیا غزہ کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی