2019 کے بعد یہ سب سے بڑی کامیابی ہے کہ کشمیر اب بین الاقوامی مسئلہ مانا جا رہا ہے؛ بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
سٹی 42 : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایک بہت بڑا محاذ جو بیانیہ کا محاذ ہے اس پر پاکستان کو بہت بڑی فتح ملی، بین الاقوامی سطح پر پاکستانی میڈیا کے کردار کو سراہا گیا، صف اول کا کردار آپ صحافیوں کا تھا میں قدر کرتا ہوں۔
بلاول بھٹو آج صحافیوں سے ملاقات کے لیے اسلام آباد پریس کلب پہنچ گئے۔ شیری رحمان، شازیہ مری، نیئر بخاری، ندیم افضل چن اور جمیل سومرو بھی اُن کے ہمراہ پریس کلب موجود تھے ۔ بلاول بھٹو نے اسلام آباد پریس کلب میں شجرکاری بھی کی۔
مجوزہ لیوی سے فرنس آئل کی سیل میں واضح کمی ہوگی؛ معاشی تھنک ٹینک
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس موقع پر گفتگو میں کہا کہ آپ سب کا شکر گزار ہوں کہ آپ سب نے دعوت دی، میں پاکستان کی فتح کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بات دیکھتے ہوئے کہ بھارت ہم سے 7 گنا زیادہ بڑا ہے، اس میں بھارت کو شکست دینا ہماری تاریخی فتح ہے۔ ایک بہت بڑا محاذ جو بیانیہ کا محاذ ہے اس پر پاکستان کو بہت بڑی فتح ملی، نوجوانوں نے جس طرح سوشل میڈیا کا مورچہ سنبھالا اس پر بھی ہمیں فخر ہے۔
پنجاب کی حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کا کردار بھی بہت اچھا رہا، بین الاقوامی سطح پر پاکستانی میڈیا کے کردار کو سراہا گیا، ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھی جو رپورٹنگ رہی بہت اچھی تھی، بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان میڈیا کی رپورٹس کو مانا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صف اول کا کردار آپ صحافیوں کا تھا میں قدر کرتا ہوں، اپنی کریڈہبیلی پر آپ لوگوں نے سمجھوتہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سات گنا پیچھے نہیں ہم برابر کھڑے ہیں، پاکستان نے اپنے ماضی سے انکار نہیں کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم نے صحیح وقت پر پر صحیح فیصلہ لیا، وزیراعظم نے کہا پاکستان بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کے لیے تیار ہیں ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔
پنجاب میں محرم الحرام کا چاند نظر نہیں آیا
بھارت نے کسی کے ساتھ اپنی معلومات ہی شیئر نہیں کی، بھارت نے جنگ کے دوران نہ صرف میڈیا کے ذریعے بلکہ سفارتکاری ہاٹ لائن کے ذریعے بھی جھوٹ پھیلایا، بھارت کو اپنی کریڈہبیلی کا نقصان ہوا۔
بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ پاکستان نے جنگ کے دوران ٹرانس پیرینسی اور کریڈیبلیٹی دیکھائی، وزیر اعظم اگر بروقت فیصلہ نہ کرتے تو بھارت جھوٹا بیانیہ بناتا، بھارت کی کریڈیبلیٹی کو نقصان پہنچایا، بھارت مسلسل جھوٹ بولتا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دفاع میں چھ جہاز گرائے، مہینہ بعد بھارت نے تسلیم کیا ہاں شاید کوئی جہاز گرا ہے۔
دو عام تعطیلات
انہوں نے کہا کہ سیاستدان کا اثاثہ اسکی زبان کی پاسداری ہے، ہم حکومت کی حمایت کرتے رہیں گے، پاکستان نے دنیا کو امن کا پیغام دیا ہمارا بیانیہ دنیا نے تسلیم کیا، دنیا نے پاکستان کے خلاف بھارتی بیانیہ مسترد کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہمیں امن کا نعرہ دی، بھارت کشمیر کو اندرونی ایشو بنانے کی کوشش میں تھا، کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے درمیان ایسے کوئی مسائل نہیں جو صرف جنگ سے حل ہوں، یہ تمام مسائل بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں، ہمارا یہ بیانیہ تھا، بھارت کا ایک ہی بیانیہ تھا کہ پاکستان ٹیررستان ہے، ہم صرف پاکستان نہیں بھارت کے عوام کا بھی مقدمہ لڑ رہے ہیں، اب مودی چاہتا ہے کہ ہم نسل در نسل لڑیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا جو نفرت کا تقسیم کا پیغام ہے امید ہے کہ اس طرف نہ جائیں ۔
محرم کا چانددیکھ لیا گیا، عاشورہ کی تاریخ سامنے آ گئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر نے کہا کہ پاکستان انہوں نے کہا کہ پر پاکستان پاکستان نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔