چین اور جرمنی کے درمیان سفارتی و سلامتی سے متعلق اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 4 July, 2025 سب نیوز

برلن: چین کے وزیرخارجہ وانگ ای نے برلن میں جرمنی کے وزیرخارجہ جوہان واڈے فل کے ساتھ چین اور جرمنی کے درمیان سفارتکاری و سلامتی سے متعلق اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کا انعقاد ہوا ۔

جمعہ کے روز چینی میڈیا کے مطابق وانگ ای نے کہا کہ کچھ عرصے پہلے چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرس نے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے اگلے مرحلے میں چین جرمنی تعلقات کی ترقی پر روشنی ڈالی ہے۔چین جرمنی تعلقات آگے بڑھنے کے اہم تجربات میں باہمی اعتماد ، اختلافات کا احترام کرتے ہوئے ہم آہنگی کے حصول اور مشترکہ کامیابیاں شامل ہیں۔چین جرمنی کے ساتھ اپنے تعلقات کو چین کی سفارت کاری میں اہم جگہ پر رکھتا ہے، چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے میں نئی جرمن حکومت کے مثبت اور منطقی رویے کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ جرمنی مکمل وحدت کے لیے چین کی کوششوں کی حمایت کرے گا،

جس طرح چین نے ماضی میں جرمنی کے دوبارہ اتحاد کی غیر مشروط حمایت کی تھی اسی طرح ایک چین کے اصول پر پاسداری کرے گا۔ یورپی یونین کے مرکزی بڑے ملک کی حیثیت سے جرمنی نے چین یورپ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مثبت خدمات سرانجام دی۔امید ہے کہ جرمنی چین یورپ تعلقات کی ترقی کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہےگا۔

جرمنی کے وزیرخارجہ جوہان واڈے فل نے کہا کہ جرمنی چین کا قابل اعتماد شراکت دار ببنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں ممالک کے شراکت داری کے تعلقات بہتر بنیاد پر قائم رہتے ہیں۔جرمن حکومت ایک چین کے اصول پرمضبوطی سے کاربند ہے۔فریقین نے یوکرین کے بحران ، ایران کے جوہری مسئلے ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور کثیر الجہتی اسٹریٹجک تعاون پرتبادلہ خیال کیا اور قریبی صلاح و مشورہ برقرار رکھتے ہوئے فائر بندی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوشش کرنے پر اتفاق کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور یورپی یونین کی ترقی کا مستقبل مشترکہ مفادات پر مبنی ہے، چینی وزیر خارجہ آئندہ 24 گھنٹے میں جنگ بندی کی تجویز پر حماس کا فیصلہ معلوم ہوجائے گا، امریکی صدر پانچ ملکوں کو جنگ سے روکا، امن کے نوبل انعام کا بہترین امیدوار ہوں: ٹرمپ روس افغانستان کی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا اسرائیلی فوج کا غزہ میں امدادی کیمپ پر حملہ، 82فلسطینی شہید تائیوان کو اقوام متحدہ اور دیگر ایسی بین الاقوامی تنظیموں میں شرکت کا کوئی حق نہیں ہے، وزارت خارجہ اسرائيلی فوج کی پبلسٹی کا الزام، بی بی سی کے 100 سے زائد ملازمین نے ادارے کو خط لکھ دیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جرمنی کے چین اور

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے نئے کمانڈر مقرر
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار