وفاقی حکومت کا رواں مالی سال بھی کفایت شعاری کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی حکومت نے رواں مالی سال میں بھی کفایت شعاری کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اخراجات قابو میں رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ وزارت خزانہ نے وفاقی حکومت کے اخراجات قابو میں رکھنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے4ستمبر 2024ء کے فیصلوں پرعمل درآمد جاری رکھنے کی منظوری دی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گزشتہ3 سال سے خالی تمام آسامیاں ختم کردی گئی ہیں اور نئی آسامیوں کی تخلیق پرپابندی برقرار رہے گی۔رواں مالی سال ہر قسم کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی جاری رہے گی اور مشینری اور آلات کی خریداری پر پابندی کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومتی اخراجات پر ملک سے باہر علاج پر پابندی برقرار رہے گی اور حکومتی خرچے پر غیر ضروری بیرونی دوروں پر پابندی بھی جاری رہے گی۔ وزارت خزانہ نے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو نوٹیفکیشن ارسال کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔