کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)سندھ ہائیکورٹ میں گارڈن ویسٹ رمضان آباد میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف درخواست پر جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہاکہ آپ کا کام صرف ٹیبل کے نیچے سے پیسے کمانا ہے؟ایس بی سی اے حکومت کا سب سے بدنام ادارہ ہے،ایس بی سی اے افسران کیلئے جہنم میں بھی خاص جگہ ہوگی۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں گارڈن ویسٹ رمضان آباد میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،کے ایم سی اور ایس بی سی اے افسران عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ 2000میں عمارت بنی ، ابتک آپ نے کیا کارروائی کی؟ڈائریکٹر ایس بی سی اے نے کہاکہ معاملہ ابھی نوٹس میں آیا، عدالتی حکم پر کارروائی ہوگی، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اپنا کام نہیں کریں گے، عدالتی حکم کی ضرورت کیوں ہے؟ 

لالی وڈ انڈسٹری کی فلمی اداکارہ ،ماڈل، ٹی وی سٹار  ثوبیہ مہر  نے شارجہ میں  لیڈیز صالون کھول لیا

جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہاکہ آپ کا کام صرف ٹیبل کے نیچے سے پیسے کمانا ہے؟ایس بی سی اے حکومت کا سب سے بدنام ادارہ ہے، ایس بی سی اے افسران کیلئے جہنم میں بھی خاص جگہ ہوگی، غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی کرکے رپورٹ پیش کریں،عدالت نے ایس بی سی اے سے 16ستمبر تک رپورٹ طلب کرلی۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ہے ایس بی سی اے

پڑھیں:

اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین

کراچی، اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے اداکار منیب بٹ کو تفتیش کے بعد بے گناہ قرار دیتے ہوئے چالان میں ان کے خلاف الزامات برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد منیب بٹ کے وکیل نے عدالت سے ضمانت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کر دی۔

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں منیب بٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد چالان میں ان کے مؤکل کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا اب ضمانت کی درخواست برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں، اس لیے اسے واپس لینے کی اجازت دی جائے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نےمحمد متعال نامی شہری کو اغوا کر کے ان سے24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا تھا۔

تحقیقات کے دوران منیب بٹ پر یہ الزام سامنے آیا تھا کہ انہوں نے مرکزی ملزمان کو مری میں رہائش فراہم کرنے میں معاونت کی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تفصیلی تفتیش اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ان کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا، جس کے باعث انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔

پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمے میں نامزد ایک پولیس اہلکارغالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں، جن کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو مبینہ طور پر اغوا کیا، ان سے کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان حاصل کیا اور بعد ازاں انہیںکورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

عدالت نے وکیل کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت متعلقہ قانونی کارروائی کے لیے ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج