سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سمجھوتہ کر کے آج بھی رہا ہوسکتے ہیں، سابق وزیر اعظم کو بہت آفرز ہیں لیکن وہ اصول پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو پشاور میں تاریخی جلسہ ہوگا، پوری پاکستانی قوم کو جلسے میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں، یہ جلسہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر ہورہا ہے، بانی پی ٹی آئی پوری قوم کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سمجھوتہ کر کے آج بھی رہا ہوسکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو بہت آفرز ہیں، عمران خان اصول پر ڈٹے ہوئے ہیں، ملک ہائبرڈ نظام کے تحت نہیں چل سکتا، تمام ادارے اپنی آئینی اور قانونی حدود میں رہ کر کام کریں۔

اسد قیصر نے کہا کہ آپ نے ہم سے جینے کا حق چھین لیا ہے، افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے، اس کے ساتھ سفارتی سطح پر بات کریں گے، ہمارے مسائل بہت زیادہ پیں، بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کریں گے۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہمارے علاقے میں 40 سال سے جنگ جاری ہے، سرتاج عزیز کمیشن میں کہا گیا وفاق اور صوبے اپنے شیئرز میں سے 3 فیصد فاٹا کو دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی کا شیئر 14 سے بڑھ کر 19 فیصد ہوگیا ہے لیکن وہ بھی نہیں دیا جارہا، ایک صوبے سے انتقام لیا جارہا ہے، بلوچستان کی بھی یہی صورتحال ہے، ہم احتجاج کرتے ہیں کہ ان صوبوں کی عوام کو دور نہ کریں، پاکستان ہم سب کا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں افغانستان، سینٹرل ایشیا اور روڈ کے ساتھ کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائییں، ایک صوبے کی عوام کو دیوار کے ساتھ نہ لگایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود