کراچی:

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں ڈکیتی مزاحمت پر سفاک ملزمان نے معصوم بچوں کے سامنے ایک باپ کو بے دردی سے قتل کر دیا۔

واقعے کی خوفناک سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آ گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقتول سجاد شوکت کو اس کے گھر کی دہلیز پر معصوم بچوں کے ہمراہ نشانہ بنایا گیا۔

واقعہ اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ، رحمت چوک کی ایم ایم کالونی میں پیش آیا، جہاں فیصل آباد سے آئے شہری سجاد شوکت اپنے بچوں کے ہمراہ گھر کے دروازے پر کھڑے تھے کہ موٹر سائیکل سوار دو ملزمان تیز رفتاری سے وہاں پہنچے۔

فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید شلوار قمیض اور پی کیپ پہنے ایک مسلح ملزم چلتی موٹر سائیکل سے اتر کر سجاد کے قریب آتا ہے۔ سجاد نے خطرہ بھانپتے ہوئے معمولی مزاحمت کی، مگر ملزم نے انتہائی قریب سے گولی چلا دی۔

افسوسناک مناظر میں یہ بھی دیکھا گیا کہ فائرنگ کے وقت ایک معصوم بچہ سجاد کی گود میں موجود تھا۔ گولی لگتے ہی سجاد اپنے گھر کی دہلیز پر گر پڑا، جب کہ بچہ یہ منظر دیکھتے ہی خوفزدہ ہو کر گھر کے اندر بھاگ گیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں فائرنگ کرنے والے ڈاکو کا چہرہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، تاہم موٹر سائیکل چلانے والے دوسرے ملزم کی شناخت میں پولیس کو مشکلات کا سامنا ہے۔

واقعے کے بعد ڈی آئی جی ویسٹ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ او اقبال مارکیٹ کو معطل کر کے عہدے میں تنزلی کر دی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور