شیخ عیدالقادر جیلانیؒ کی پوری زندگی اسلام کیلیے وقف تھی، مولانا احمد رضا عطاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) دعوت اسلامی کے رہنما اور مبلغ مولانااحمد رضا عطاری نے کہا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی پوری زندگی سنت بنویﷺ کے مطابق تھی انھوں نے اسلام کو لوگوںپھیلانے کے لیے بھرپور جد جہد کی۔ یہ بات انھوں گلزار مدینہ مسجد کریم آباد میں شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی یاد میں منعقد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی انھوں نے مسلمان کی زندگی کا اہم مقصد ہے کہ اس دین کی دعوت کو پھیلانے کیلیے جدوجہد کرے اور اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ انھوں نے کہا شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی پوری زندگی سنت نبویﷺ کے مطابق گزری اور اس کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا جو اسلام کی تبلیغ سے خالی ہو انھوں نے کہا ان کی زندگی ہمیں درس دیتی ہے کہ ہم بھی اپنی زندگیوں کو اسلام کی راہ میں لگائے اور خود بھی دین سکھیں اور لوگوں کو بھی دین کی تعلیم پہنچائیں اور یہ ہی طریقہ ہے دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کا جلسے ٹنڈوجام کے نگراں مولانا عارف عطاری مولانا ضیاء مدنی قاری قاسم عطاری نے بھی خطاب کیا اورکمسن نعت خواں محمد بلال عطاری محمد ابراہیم محمد عمیر احمد نے نعتیں پڑھ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ہدیہ سلام پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انھوں نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔