ٹی ایل پی کے لبیک یا اقصیٰ مارچ کو روکنے کیلئے حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے، درجنوں کارکنان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
لاہور: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے فلسطین کے حق میں ہونے والے پرامن ’لبیک یا اقصیٰ مارچ‘ کو روکنے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال شروع کردیا ہے۔
ترجمان تحریک لبیک پاکستان کے مطابق پنجاب بھر میں کارکنان کی گرفتاریاں، گھروں پر چھاپے اور مرکز جامع مسجد رحمت اللعالمین لاہور پر پولیس کا حملہ حکومت کی بوکھلاہٹ اور جبر کی انتہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری نے آنسو گیس اور لاٹھیوں کے ساتھ تحریک لبیک کے مرکزی دفتر پر چڑھائی کی، جس کے نتیجے میں مسجد کے اطراف صورتحال کشیدہ ہوگئی اور متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ جہاں ایک طرف یہودی فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں، وہیں یہاں ان کے حمایتی مسلمانوں پر ظلم کررہے ہیں، پرامن مارچ برائے فلسطین کو جرم بنا دیا گیا ہے، جو مذہبی اور انسانی آزادی پر سنگین حملہ ہے۔
ترجمان کاکہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان کے نائب امیر پیر سید ظہیر الحسن شاہ کی گرفتاری کے بعد پنجاب بھر میں ریاستی جبر اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، فلسطین کے حق میں نکالے جانے والے پرامن مارچ کو روکنے کی کوشش افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ طاقت کے زور پر حق کی آواز دبائی نہیں جا سکتی، ظلم کا ہر وار ناکام ہوگا، اگر گرفتاریاں اور چھاپے بند نہ ہوئے تو عوامی ردِعمل کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔
تحریک لبیک کے ترجمان نے حکومت کو خبردار کیا کہ سیاسی انتقام اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے اس سلسلے کو فوری طور پر روکا جائے، حکومت مذہبی و عوامی جذبات کو طاقت سے دبا نہیں سکتی، کارکنان کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: تحریک لبیک
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔