میجر سبطین حیدر شہید ایک بہادر والد کے بہادر بیٹے تھے، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے بہادر افسر نے وطن عزیز کے دفاع میں جرات و بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے بہادر افسر سبطین حیدر نے وطن عزیز کے دفاع میں جرات و بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اپنے بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی پر فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور آپریشن کے دوران شہید ہونے والے فوجی افسر میجر سبطین حیدر کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے بہادر افسر نے وطن عزیز کے دفاع میں جرات و بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ قوم کو اپنے بہادر سپوت پر فخر ہے۔ شہید ایک بہادر والد کے بہادر بیٹے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے شہداء نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کرکے بہادری کی نئی مثال قائم کی۔ شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کے خون کے مقروض ہیں۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کو مزید مضبوط کر رہی ہیں۔ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بلوچستان کے عوام شہداء کے مشن کو سلام پیش کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے دفاع میں نے کہا کہ پیش کیا
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔