گورنرخیبرپختونخوا نے علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ موصول ہونے کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اکتوبر2025ء) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ موصول ہونے کی تردید کر دی ہے۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے پاس آفیشلی وزیراعلیٰ کا استعفیٰ نہیں آیا، جب استعفیٰ آئیگا تو قانون کے مطابق کارروائی کروں گا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ ملٹری سیکرٹری کو استعفیٰ موصول ہونا فیک نیوز ہے، جب ووٹنگ ہوگی تو ایک نہ ایک شخص نے وزیراعلیٰ بننا ہے، جس کی زیادہ ووٹنگ ہوگی وہی وزیراعلیٰ بنے گا، اپوزیشن جماعتوں کے وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اپوزیشن لیڈر ہی بتا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے 8 اکتوبر کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ علی امین گنڈا پور کی جگہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔(جاری ہے)
دریں اثنا، علی امین گنڈا پور نے بھی عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے حکم پر وزارت اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی کی پوزیشن بانی پی ٹی آئی کی امانت تھی، یہ امانت ان کو واپس کر کے اپنا استعفی دے رہا ہوں، تاہم سہیل آفریدی کو میری مکمل حمایت اور سپورٹ حاصل ہوگی اور ہم عمران خان کی رہائی اور پارٹی پالیسی کے لیے ایک ہوکر آگے بڑھیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے علی امین گنڈا پور
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔