WE News:
2026-07-24@08:10:05 GMT

پاک سعودی عرب معاہدہ: طاقت کے توازن کی نئی تعبیر

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

گزشتہ ماہ ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک غیر معمولی پیش رفت نے نہ صرف خطے کے تجزیہ کاروں کو چونکا دیا بلکہ عالمی طاقتوں کے تھنک ٹینک بھی اس پر گہری نظر رکھنے لگے ہیں۔ یہ پیش رفت اتنی اہم تھی کہ اس کے بعد تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

دنیا کی بڑی انٹیلی جنس ایجنسیاں، امریکا سے بھارت تک، ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہیں کہ پاکستان کے کسی دوسرے ملک سے تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کی قبل از وقت خبر انہیں مل جائے۔ اگر انہیں ذرا سا اشارہ بھی مل جائے تو وہ پسِ پردہ ایسی پیش رفت کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہو جاتی ہیں تاکہ یا تو پیش رفت، معاہدہ لٹک جائے یا پھر مطلوبہ نتائج فراہم نہ کرسکے۔ اس طرح وہ اپنی ’’کامیابی‘‘ پر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں اور فخر سے قہقہے لگاتے ہیں۔

مگر لگتا ہے کہ اس بار معاملہ پاکستان اور سعودی عرب کے دشمنوں کی نظروں سے اوجھل رہا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ معاہدے کے بارے میں مخالف قوتوں کو اس وقت خبر ملی جب وزیرِاعظم شہباز شریف کا طیارہ سعودی فضاؤں میں داخل ہوا۔ اور تب منظر کچھ یوں تھا کہ سعودی عرب کے جنگی طیارے پاکستانی وزیراعظم کے طیارے کے گرد حصار بنائے ہوئے تھے، فضاؤں میں سلامی دی جا رہی تھی، اور زمین پر دونوں ممالک کے پرچم ساتھ لہرا رہے تھے۔ دونوں برادر ممالک کے ہاں باہمی شاندار، مضبوط تعلقات کے گیت گائے جا رہے تھے، ریاض اور اسلام آباد دونوں سبز و سفید روشنیوں میں نہائے ہوئے تھے، اور یہی لمحہ تھا جب دشمنوں کے ماتھے پر بل پڑنے لگے۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ دشمنوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔
بھارت کے لیے تو شاید یہ جھٹکا زیادہ شدید تھا۔ ایک جانب پاکستان فضائیہ کے ہاتھوں اس کی فضائی ناکامی، دوسری طرف امریکی حکومت کی طرف سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ’ٹرمپ ٹیکس‘، اور اب پاکستان اور سعودی عرب کا ہمہ پہلو معاہدہ، جس کی ایک ہی سطر نے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بدل ڈالا کہ جو پاکستان سے دشمنی کرے گا، اسے سعودی عرب کی دشمنی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔اور جو سعودی عرب کی طرف میلی نظر اٹھائے گا، اسے پاکستان کے شدید غیظ و غضب سے دوچار ہونا پڑے گا۔

بھارت جو خود کو خطے کا چوکیدار سمجھنے کے خبط میں مبتلا تھا، اس اچانک تبدیلی کے بعد توازن کھو بیٹھا ہے۔

جس روز معاہدے کا اعلان ہوا، بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا ٹویٹ پڑھنے کے قابل تھا ، الفاظ میں سفارتی احتیاط تھی مگر لہجے میں خوف صاف جھلک رہا تھا۔

بھارتی تجزیہ کار اب تک اسی سوال پر سر کھجا رہے ہیں کہ آخر یہ سب ہوا کیسے؟

اپنی کامیابی کو دشمن کی نظر سے دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔ تب اندازہ ہوتا ہے کہ کامیابی کس قدر غیرمعمولی ہے۔

بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض عسکری تعاون کا معاہدہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بڑے جیوپولیٹیکل مفادات پوشیدہ ہیں۔ معاہدے کے عملی پہلو بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، یہ طے ہے کہ سعودی پاکستانی دفاعی تعاون نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی طاقت کے توازن کو نئی سمت دے گا۔

بعض تجزیہ کاروں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد یہ معاہدہ طے پایا، مگر ایسا ہرگز نہیں۔ ایسے معاہدے چند دنوں میں نہیں لکھے جاتے۔ جیسا کہ ایک اعلیٰ سعودی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا:

’یہ معاہدہ کئی برسوں کی بات چیت کا نتیجہ ہے۔ یہ کسی مخصوص ملک یا واقعے کے ردِعمل کے طور پر نہیں بلکہ ہمارے دو ممالک کے درمیان دیرینہ اور گہرے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کا عمل ہے۔‘

بلاشبہ، اس معاہدے کے اثرات محض دفاع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معیشت، توانائی، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری جیسے کئی شعبوں پر بھی نمایاں اثر ڈالیں گے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک بریک تھرو ہے، ایک ایسا موقع جہاں سفارت کاری اور اعتماد نے مل کر خطے کی سیاست میں نیا باب رقم کیا ہے۔

یہ تعاون اسی جذبے سے آگے بڑھتا رہے گا، جس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں وسعت اختیار کریں گے بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا نقشہ بھی بدلے گا۔ اور یہی وہ بات ہے جو بہت سوں کو بے چین کیے ہوئے ہے۔

یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ عالمی طاقتوں کے تزویراتی کھیل میں پاکستان اور سعودی عرب دونوں اپنی الگ الگ اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک جوہری طاقت، دوسرا توانائی کا مرکز۔ جب یہ دونوں ممالک باہمی اعتماد، معاشی تعاون اور دفاعی شراکت کے رشتے کی گہرائی میں مزید اترتے ہیں تو صرف دو ممالک نہیں بلکہ پورے خطے کا سیاسی و معاشی توازن بدلنے لگتا ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں، جہاں مشرقِ وسطیٰ نئی صف بندیوں سے گزر رہا ہے اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں، وہاں پاک سعودی اشتراک ایک توازن ساز عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ معاہدہ دراصل ایک نئے سفارتی بیانیے کی بنیاد رکھتا ہے جس میں پاکستان اپنی روایتی جغرافیائی حیثیت سے آگے بڑھ کر علاقائی استحکام کے ضامن کے طور پر ابھر رہا ہے، اور سعودی عرب محض تیل کی معیشت نہیں بلکہ ایک تزویراتی شراکت دار کے روپ میں سامنے آ رہا ہے۔

جب سے یہ تاریخی معاہدہ ہوا ہے، کوئی ایک روز ایسا نہیں گزرتا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہم رابطے نہ ہوتے ہوں۔ وفود آ رہے ہیں، وفود جا رہے ہیں۔ ان دنوں ایک اہم ترین سعودی وفد پاکستان دورے پر ہے۔ اور اس ماہ کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف ایک بار پھر  سعودی عرب جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین سرگرمیاں کبھی اس قدر زیادہ نہیں ہوئیں، جتنی اب ہو رہی ہیں۔

انشااللہ اب دونوں ممالک اس موقع کو پائیدار ترقی، صنعتی شراکت اور مشترکہ دفاعی منصوبوں میں ڈھالنے میں کامیاب ہوں گے، اس کے نتیجے میں یہ معاہدہ صرف آج کی خبر نہیں بلکہ آنے والی دہائیوں کی تاریخ بن جائے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبیداللہ عابد

اردو کالم پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدہ عبیداللہ عابد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اردو کالم پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدہ عبیداللہ عابد پاکستان اور سعودی عرب کے جنوبی ایشیا میں دونوں ممالک نہیں بلکہ یہ معاہدہ ممالک کے پیش رفت رہے ہیں جا رہے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار