Juraat:
2026-07-24@05:17:40 GMT

ٹرمپ کی نوبیل سیاست اور امن کا سودا

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

ٹرمپ کی نوبیل سیاست اور امن کا سودا

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

نوبیل لفط سویڈش سائنس دان الفریڈ نوبیل( Alfred Nobel)کے نام سے منسوب ہے ۔دنیا کی سب سے معزز اور متنازع ترین اعزازات میں سے ایک ”نوبیل امن انعام”ہر سال عالمی توجہ کا مرکز بنتا ہے ۔ یہ وہ انعام ہے جو صرف کسی شخص کی کامیابی کا اعتراف نہیں بلکہ انسانی تاریخ میں امن، مفاہمت اور عالمی تعاون کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ نوبیل انعام پانے والے افراد نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن جاتے ہیں۔ تاہم جب بات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ واقعی امن کے علمبردار کے طور پر اس عالمی اعزاز کے اہل قرار دیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔ ماہرین کی اکثریت اس خیال کی تائید نہیں کرتی کہ ٹرمپ کے ریکارڈ یا ان کے طرزِ عمل میں وہ اوصاف پائے جاتے ہیں جو نوبیل کمیٹی کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔
نوبیل امن انعام کے معیار واضح ہیں۔ یہ ان افراد یا تنظیموں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے پائیدار امن، تنازعات کے حل، انسانی حقوق کے تحفظ، یا بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں حقیقی کردار ادا کیا ہو۔ اس حوالے سے تاریخ میں نیلسن منڈیلا، مارٹن لوتھر کنگ، مادر ٹریسا، کوفی عنان، اور حالیہ برسوں میں ابی احمد یا ملالہ یوسفزئی جیسے شخصیات کے نام اس ایوارڈ کو وقار بخشتے ہیں۔ ان تمام شخصیات میں ایک قدر مشترک ہے کہ انسانیت کے لیے قربانی، مفاہمت اور اخلاقی جرات۔ مگر ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاسی کیریئر ان اصولوں کے برعکس تضادات سے بھرا نظر آتا ہے ۔
ٹرمپ کی صدارت( 2017۔2021) کے دوران امریکہ نے جس خارجہ پالیسی کا مظاہرہ کیا، اسے ماہرین نے America First یعنی سب سے پہلے امریکہ کی پالیسی کہا۔ یہ ایک قومی مفاد پر مبنی حکمتِ عملی تھی جس میں عالمی اداروں، معاہدوں اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو اکثر پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ، نیٹو، پیرس ماحولیاتی معاہدے ، اور عالمی تجارتی تنظیم جیسے اداروں پر تنقید کرتے ہوئے امریکی انخلا یا تعاون میں کمی کا اعلان کیا۔ ان کے ان اقدامات کو بین الاقوامی تعاون کے بجائے عالمی انزوا (Isolationism) کی علامت سمجھا گیا۔ یہ طرزِ عمل نوبیل امن انعام کے بنیادی فلسفے سے میل نہیں کھاتا، جو عالمی یکجہتی اور اجتماعی امن کے فروغ پر مبنی ہے ۔ٹرمپ کے دورِ حکومت میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کچھ پیش رفت ضرور دیکھی گئی۔ اسرائیل اور چند عرب ممالک کے درمیان ”ابراہام معاہدات”کے نتیجے میں تعلقات معمول پر آئے ، جسے ان کے حامی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہ معاہدے وقتی نوعیت کے تھے ، کیونکہ ان میں فلسطین کے دیرینہ مسئلے کو نظرانداز کیا گیا، جو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بنیادی شرط ہے ۔ نوبیل کمیٹی ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھتی ہے کہ امن کی کوششیں کتنی جامع، پائیدار اور انسانی بنیادوں پر مبنی ہیں۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں یہ پہلو کمزور دکھائی دیتا ہے ، کیونکہ ان کی ترجیحات سیاسی اور انتخابی مفادات سے جڑی ہوئی تھیں، نہ کہ عالمی امن سے ۔ مزید برآں، ٹرمپ کی داخلی پالیسی نے بھی عالمی سطح پر ان کے امیج کو نقصان پہنچایا۔ نسل پرستی کے واقعات، امیگریشن قوانین کی سختی، میکسیکو بارڈر پر دیوار کی تعمیر، مسلم ممالک پر سفری پابندیاں، اور بلیک لائیوز میٹر تحریک کے دوران ان کا سخت رویہ اُن کے امن پسند ہونے کے تصور کو کمزور کرتا ہے ۔ نوبیل انعام دینے والی ناروے کی کمیٹی ہمیشہ اس بات کو دیکھتی ہے کہ امیدوار کے اقدامات صرف سفارتی میز تک محدود نہیں بلکہ انسانی حقوق اور اخلاقی اصولوں کے مطابق بھی ہوں۔ٹرمپ کے رویے اور بیانات اکثر اشتعال انگیز اور تقسیم پیدا کرنے والے رہے ۔ انہوں نے سیاسی مخالفین، میڈیا، حتیٰ کہ اپنے اتحادی ممالک کو بھی عوامی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے عہد میں امریکہ کے اندر سیاسی و سماجی تقسیم میں اضافہ ہوا، جس کا مظاہرہ 6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس پر حملے کے دوران ہوا۔ اس واقعے نے ٹرمپ کی قیادت پر سوالیہ نشان لگا دیا کہ آیا وہ جمہوری اقدار کے محافظ ہیں یا اقتدار کی کشمکش میں جمہوری اصولوں کو قربان کرنے والے ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا کے بیشتر مبصرین نے سمجھ لیا کہ ٹرمپ کی شخصیت امن کے تصور سے ہم آہنگ نہیں۔
نوبیل امن انعام کے امیدواروں کی فہرست ہر سال سینکڑوں ناموں پر مشتمل ہوتی ہے ، جن میں سیاستدان، تنظیمیں، اور سماجی کارکن شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ کا نام 2020 میں چند حامیوں کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا، مگر ماہرین کے نزدیک نامزدگی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص انعام کے معیار پر پورا بھی اترتا ہو۔ نوبیل کمیٹی کے اراکین نامزدگی کے بعد کئی ماہ تک تفصیلی جائزہ لیتے ہیں، امیدوار کے سابقہ اقدامات، پالیسیوں، اور ان کے عالمی اثرات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس بار بھی کمیٹی کے ذرائع کے مطابق، ایسے افراد کو فوقیت دی جائے گی جنہوں نے پائیدار امن، انسانی بحرانوں کے خاتمے ، یا ماحولیاتی تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا ہو اور ٹرمپ ان زمروں میں فطری طور پر کمزور دکھائی دیتے ہیں۔یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ نوبیل انعام محض سفارتی بیانات یا وقتی معاہدوں کی بنیاد پر نہیں دیا جاتا، بلکہ اس کے لیے اخلاقی تسلسل اور انسانی خدمت کا ریکارڈ درکار ہوتا ہے ۔ ٹرمپ کے دور میں اگرچہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات ایک تاریخی قدم تھا، مگر اس کے بعد امن مذاکرات کا کوئی دیرپا نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔ اسی طرح ایران کے جوہری معاہدے سے امریکی دستبرداری نے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں امن کی بنیادوں کو کمزور کیا جائے ، وہاں انعام کی توقع رکھنا حقیقت سے فرار کے مترادف ہے ۔
غیر ملکی میڈیا اور سیاسی مبصرین کے مطابق نوبیل کمیٹی کی حالیہ سمت ان شخصیات کی طرف ہے جو ماحولیاتی تبدیلی، انسانی حقوق، اور عالمی تعاون میں عملی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس لیے امکان یہی ہے کہ اس سال کا ایوارڈ کسی ایسے فرد یا تنظیم کو دیا جائے جو عالمی بحرانوں، مثلاً یوکرین جنگ، فلسطین انسانی المیے ، یا ماحولیاتی تباہی کے حل کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہو۔ ٹرمپ کی پالیسیوں میں ان میں سے کسی مسئلے کے لیے کوئی مثبت مثال نہیں ملتی، بلکہ ان کے دور میں ان بحرانوں کی شدت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ ٹرمپ کے ناقدین کے مطابق ان کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی قیادت کا انداز ہے ، جو مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی پر مبنی ہے ۔ نوبیل امن انعام کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار امن کے فروغ کا استعارہ بنے ، نہ کہ اختلافات کی علامت۔ ٹرمپ نے اپنی سیاست میں جیت یا ہار کی ذہنیت اپنائی، جب کہ امن ہمیشہ درمیانی راستے اور قربانی کے فلسفے پر قائم ہوتا ہے ۔اگرچہ ٹرمپ کے حامی اب بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بنیاد رکھی، مگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو وہ بنیاد کھوکھلی ثابت ہوئی ہے ۔ نوبیل کمیٹی کے لیے فیصلہ ہمیشہ تاریخ کے تناظر میں ہوتا ہے ، نہ کہ سیاسی مصلحت کے لحاظ سے ۔ اس لحاظ سے ماہرین کا یہ کہنا درست ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نوبیل امن انعام حاصل کرنا نہ صرف مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے ۔
دنیا کو اس وقت ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو طاقت کے بجائے مکالمے پر یقین رکھتی ہو۔ نوبیل کمیٹی کے فیصلے کے بعد یہ پیغام مزید مضبوط ہوگا کہ امن محض نعرہ نہیں بلکہ کردار کا تقاضا ہے ۔ امریکہ سمیت تمام طاقتور ممالک کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ عالمی امن صرف اپنے مفاد کے گرد نہیں گھوم سکتا۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کو بھی ایسے رہنماؤں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو امن کی سیاست کو عملی شکل دیتے ہیں۔ یہی نوبیل امن انعام کا اصل مقصد ہے ۔انسانیت کے لیے پائیدار امن، نہ کہ اقتدار کے لیے وقتی مصلحت۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: نوبیل امن انعام کے نوبیل کمیٹی کے کے مطابق ٹرمپ کے ہوتا ہے ٹرمپ کی اور ان کے لیے امن کے امن کی

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم