بھارت نے افغانستان کو ایمبولینسز کا تحفہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت نے افغانستان کو ایمبولینسز کا تحفہ دے دیا۔افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی بھارت کے دورے پر دارالحکومت نئی دہلی میں موجود ہیں جہاں انہوں نے بھارتی ہم منصب جے شنکر سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے افغان وزیر خارجہ کو ایمبولینسز کا تحفہ دیا۔ انہوں نے ایمبولینسز کا دورہ بھی کروایا اور 20 میں سے 5 ان کے حوالے کیں۔دوسری جانب بھارت نے افغانستان میں بھارتی تکنیکی مشن کو سفارتخانے کا درجہ دینے کا بھی اعلان کیا۔بھارت کےدورے پر موجود افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی نے بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں کہا کہ افغانستان، بھارت کو ایک قریبی دوست کے طور پر دیکھتا ہے، بھارت اور افغانستان کو اپنے تعلقات اور تبادلے مزید بڑھانے چاہییں۔ امیرخان متقی کا کہنا تھا کہ کسی کوبھی اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،
سابق ڈی جی آئی ایس آئی (فیض حمید) کا کورٹ مارشل ہورہا ہے، آپ تعلق کو ذاتی اور سیاسی بنادیں توجوابدہی ہوگی، ترجمان پاک فوج
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایمبولینسز کا
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔