عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے انکشاف کیا ہے کہ یورپ میں طبی عملہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے جہاں ہر 10 میں سے ایک ڈاکٹر یا نرس نے خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات کی تصدیق کی ہے۔۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے 60 فیصد ڈاکٹرز بیرونِ ملک جا رہے ہیں، سینیٹ کمیٹی میں انکشاف

یہ چشم کشا نتائج ڈبلیو ایچ او یورپ اور یورپی کمیشن کے اشتراک سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق سے سامنے آئے جو اکتوبر 2024 سے اپریل 2025 کے دوران 29 یورپی ممالک میں کی گئی۔

اس تحقیق میں تقریباً ایک لاکھ افراد سے رائے لی گئی جن میں ڈاکٹرز، نرسز اور مریض شامل تھے۔

’ذہنی صحت کا بحران دراصل صحت عامہ کا بحران ہے‘

یورپ میں ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ہینز کلوگے نے صورتحال کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طبی عملے میں ذہنی صحت کا بحران محض ایک ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر عوامی صحت کے نظام کی پائیداری کے لیے خطرہ ہے۔

مزید پڑھیے: پنجاب میں ہزاروں نرسز بھرتی کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟

انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران نہ صرف مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو متاثر کرے گا بلکہ مستقبل میں طبی شعبے میں اعداد و شمار کے لحاظ سے شدید انسانی وسائل کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

خودکشی کے خیالات اور ذہنی دباؤ کے عوامل

تحقیق کے مطابق 25 ففیصد طبی عملہ ہفتے میں 50 گھنٹے سے زائد کام کرتا ہے۔

ایک تہائی طبی کارکنوں کی ملازمت عارضی بنیادوں پر ہے جس سے روزگار کا عدم تحفظ اور ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔

ڈاکٹروں اور نرسوں میں خودکشی کے خیالات عام لوگوں کے مقابلے میں 2 گنا زیادہ پائے گئے۔

10 فیصد طبی عملے نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں انہیں موت یا خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات آئے۔

مزید پڑھیں: کتنے پاکستانیوں کو ایک ڈاکٹر، ڈینٹسٹ اور نرس کی سہولت میسر ہے؟

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ تقریباً ایک تہائی ڈاکٹرز اور نرسیں اپنے کام کے دوران تشدد یا بدسلوکی کا سامنا کرتی ہیں جبکہ طویل اوقاتِ کار اور دباؤ کے ماحول نے ان میں ڈپریشن اور ذہنی تھکن کو عام کر دیا ہے۔

نوکری چھوڑنے کے رجحان میں اضافہ

مطالعے کے مطابق یورپ میں 11 سے 34 فیصد طبی کارکنان اپنی ملازمت چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔

اس رجحان سے مریضوں کو نہ صرف طویل انتظار کا سامنا ہو سکتا ہے بلکہ معیاری طبی نگہداشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ویمن نرسنگ کالج جو تعمیر ہونے کے 19 برس بعد فعال نہیں ہوسکا

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو 2030 تک یورپ کو تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار طبی کارکنوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اصلاحات کی ضرورت: سفارشات کیا ہیں؟

رپورٹ میں اس بحران سے نمٹنے کے لیے کئی اہم اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں کام کی جگہ پر تشدد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، ورک شفٹ نظام میں اصلاحات تاکہ عملے کو مناسب آرام میسر ہو، ذہنی صحت کی سہولیات تک آسان اور معیاری رسائی اور روزگار کے استحکام کے لیے مستقل ملازمتوں کا فروغ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ایئر انڈیا حادثہ: روزگار کی خاطر گھر سے دور جانے والی نرس بھی بدقسمت مسافروں میں شامل

ڈاکٹر ہینز کلوگے کا کہنا ہے کہ طبی عملے کی ذہنی اور جسمانی فلاح و بہبود صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک محفوظ، معیاری اور دیرپا صحت کے نظام کی بنیاد ہے۔

مثبت پہلو

اگرچہ اعداد و شمار تشویش ناک ہیں تاہم رپورٹ کے مطابق تین چوتھائی ڈاکٹرز اور دو تہائی نرسز اب بھی اپنے پیشے کو باعزت، بامقصد اور اہم سمجھتے ہیں جو امید کی ایک کرن ضرور ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر اور نرس ڈاکٹروں میں خودکشی کا رجحان نرسوں میں خودکشی کا رجحان یورپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر اور نرس ڈاکٹروں میں خودکشی کا رجحان نرسوں میں خودکشی کا رجحان یورپ ڈبلیو ایچ او کے خیالات یورپ میں اور نرس کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ