شمالی کوریا کی فوجی پریڈ، نئے طاقتور ترین بین البراعظمی میزائل کی نمائش
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
شمالی کوریا نے اپنے نئے بین البرعظمی میزائل کی شاندار نمائش کے ساتھ ایک عظیم فوجی پریڈ کا انعقاد کیا ہے، جس کی قیادت کم جونگ اُن نے کی۔ پریڈ میں بین الاقوامی شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں چین کے وزیراعظم لی چیانگ، روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین اور سابق صدر دمتری میدوی ایدف اور ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری تو لام شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرائن کیخلاف روس کا ساتھ دینے والے شمالی کوریائی فوجیوں کے لیے اعزازات
یہ فوجی پریڈ جو حکمراں جماعت ورکرز پارٹی کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی، پریڈ کے دوران شمالی کوریا نے اپنا جدید ترین بین البرعظمی میزائل ہواسونگ 20 پیش کیا، جسے ریاستی میڈیا کے مطابق ملک کا طاقتور ترین جوہری اسٹریٹجک ہتھیار قرار دیا گیا۔ اس میزائل سیریز کے ذریعے شمالی کوریا کو امریکا کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہے۔
Обратили внимание, что чем беднее живет народ в стране и меньше у него свобод, тем помпезнее военные парады? Это Северная Корея, но этот праздник смерти ничем не отличается от такого же праздника в любой другой россии.
— Энергия на шару (@PowerNaShary) October 11, 2025
امریکی تھنک ٹینک کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے وابستہ ماہر آنکِت پانڈا کے مطابق ہواسونگ 20 اس وقت شمالی کوریا کی طویل فاصلے تک جوہری صلاحیتوں کے عروج کی نمائندگی کرتا ہے، اور توقع ہے کہ اس نظام کا تجربہ سال کے اختتام سے قبل کیا جائے گا۔
آنکِت پانڈا کے بقول یہ میزائل ایک سے زیادہ وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو امریکی میزائل دفاعی نظام پر دباؤ بڑھائے گا اور واشنگٹن کے خلاف کم جونگ اُن کی جارحانہ حکمتِ عملی کو مضبوط کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چین، روس اور شمالی کوریا امریکا کے خلاف سازش کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا الزام
پریڈ میں دیگر جدید ہتھیار بھی پیش کیے گئے جن میں ہائپرسونک بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، نیا راکٹ لانچر اور خودکش ڈرون لانچر شامل تھے۔
Hier die komplette Militärparade aus Nordkorea. Seltene Bilder, die man im globalen Westen kaum zu sehen bekommt. Das "Prunkstück" war die mit Atomsprengköpfen bestückbare Interkontinental-Rakete, die im Video direkt am Anfang gezeigt wird. Die Kooperation mit Russland hat… pic.twitter.com/AkuwojX62C
— MultiPolar (@Your_Tweety) October 11, 2025
کم جونگ ان نے اپنے خطاب میں غیر ملکی محاذوں پر تعینات شمالی کوریائی فوجیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بہادری نہ صرف وطن کے دفاع میں بلکہ سوشلسٹ تعمیر کے دوسرے محاذوں پر بھی نمایاں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج کو ایک ناقابلِ شکست قوت بنتے رہنا چاہیے جو ہر خطرے کو نیست و نابود کر دے۔
پریڈ کے موقع پر کم جونگ ان نےدمتری میدوی ایدف سے ملاقات بھی کی۔ میدویدیف نے یوکرین میں روس کے ساتھ لڑنے والے شمالی کوریائی فوجیوں کی قربانیوں کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی علامت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کے جنوبی کوریا پر انوکھے طرز کے حملوں میں اضافہ
کم جونگ اُن نے اس موقع پر کہا کہ وہ روس کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ اہداف کے لیے قریبی تعلقات بڑھانے کے خواہاں ہیں، اسی موقع پر ویتنام اور شمالی کوریا کے درمیان دفاع، خارجہ امور اور صحت کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بین البرعظمی میزائل چین شمالی کوریا طاقتور میزائل فوجی پریڈ لی چیانگ ہواسونگ20 وار ہیڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین البرعظمی میزائل چین شمالی کوریا طاقتور میزائل فوجی پریڈ لی چیانگ ہواسونگ20 وار ہیڈ شمالی کوریا فوجی پریڈ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔