دہشت گردی: ابہام کا خاتمہ ضروری ہے
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا اورصحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے ہیں ۔اپنے خطاب اور صحافیوں کے سوالات میں انھوں نے پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے چیلنج کے حوالے سے انتہائی اہم اور فیصلہ کن باتیں کی ہیں۔
انھوں نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے جسے مقامی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جگہ دی گئی۔
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی نے جہاں غیر ملکی عناصراور سرمایہ کار فرما ہے وہاں داخلی طور پر بھی ایسے طبقے موجود ہیں جو انتہائی چالاکی اور عیاری کے ساتھ دہشت گردوںکی پشت پناہی بھی کرتے ہیں اور انھیں گلوریفائی بھی کراتے ہیں‘اس حوالے سے بڑی عیاری کے ساتھ ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا ہے جس کے ذریعے چوں کہ چنانچہ اور اگر مگر کے ذریعے دہشت گردوں کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے جب کہ اپنے ملک اور اس کے سیکیورٹی اداروں کو معطون کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں دائیں بازوکی سیاسی جماعتوں خصوصاً مذہبی سیاسی جماعتوں کی قیادت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے حوالے سے ہمیشہ مبہم اور غیر واضح موقف اختیار کیا اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جیسے یہ کوئی بہت بڑا یا سنگین مسئلہ نہیں ہے۔
آج بھی مخصوص مائنڈ سیٹ کے حامل سیاسی گروہ ‘مذہبی طبقے ‘نام نہاد دانشور اسی راہ پر گامزن ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا بیانیہ فروغ پاتا رہا ہے۔ داخلی طور پر دہشت گردوں کی فنانشل لائف لائن کو بھی برقرار رکھنے میں مخصوص مائنڈ سیٹ جو سیاست میں داخل ہوا ‘نے اہم رول ادا کیا ہے۔
دہشت گردوں کے سرپرستوں اور ہینڈلرز نے غیر قانونی دولت اکٹھی کرنے کے لیے مجرمانہ سرگرمیوں کو سپورٹ کیا۔ یوں پاکستان کا انتظامی ڈھانچے اور سیاست میں کرپشن کا وائرس داخل ہوا جس نے پورے ملک کے نظام کو بوسیدہ کر دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی میں اضافے کی مختلف وجوہات ہیں جس میں نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل نہ ہونا بھی شامل ہے۔
2014 میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد سیاسی و عسکری لیڈر شپ نے ایک مشترکہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا لیکن آج تک اس پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا بلکہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے۔انھوں نے سوال اٹھایا کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہی ہے؟اگر دہشت گردوں سے مذاکرات ہی کرنا ہوتے ہیں تو پھر جنگیں کبھی نہ ہوتیں۔
دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت کے بیانیے کا جہاں تک تعلق ہے تو اس بیانیے کو بھی کئی دہائیوں سے مسلسل پھیلایا جا رہا ہے۔ آج بھی اس بیانیے کی وکالت کی جاتی ہے۔ لیکن حقائق کو دیکھا جائے تو یہ بیانیہ اپنی اہمیت برسوں پہلے کھو چکا ہے۔
پاکستان میں جو گروہ دہشت گردی کر رہا ہے اور دہشت گردوں کے ہینڈلرز کا مائنڈ سیٹ مذاکرات والا ہے ہی نہیں ‘یہ انتہائی مکارانہ اور دغا بازی پر مبنی ایک حکمت عملی ہے جس کا مقصد ایک آرگنائزڈ اسٹیٹ اور اس کی آرگنائزڈ مشینری کو مذاکرات میں الجھا کر رکھنا ہے تاکہ دہشت گردوں کو سانس لینے کا موقع ملتا رہے۔
یہ حکمت عملی کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔اس معاملے میں افغانستان کے طالبان نے بھیعیارانہ سفارتکاری کر کے ٹی ٹی پی اور اس کی سسٹر آرگنائزیشنزکوبچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج دہشت گردوں کے سارے گروہ افغانستان کی سرزمین میں آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر رہے ہیں اور افغانستان میں اپنے کاروبار کر رہے ہیں۔
بڑی ہی چالاکی کے ساتھ یہ تاثر گہرا کیا گیا جیسے ٹی ٹی پی کے لوگ پاکستان کے شہری ہیںحالانکہ اس حوالے سے بھی کئی شکوک و شبہات موجود ہیں۔ٹی ٹی پی کے پلیٹ فارم سے لڑنے والے سارے لوگ افغانستان کے باشندے ہیں جو جعلی شناختی کارڈ حاصل کر کے پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں رہتے رہے ہیں۔
ان کا پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب معاملات بہت واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ افغانستان کے اقتدار پر قابض طالبان اور نام نہاد پاکستانی طالبان کے چہرے سے نقاب اتر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود وہ مخصوص گروہ بھی بے نقاب ہو رہا ہے جو ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے اجتماعی مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے۔
یہ ایسا گروہ اور طبقہ ہے جو ریاست پاکستان کے وسائل کو استعمال کر رہا ہے۔پاکستان میں کاروبار کر کے پیسے کما رہا ہے۔سرکاری عہدے بھی لے رکھے ہیں‘ملک کا انفرااسٹرکچر بھی استعمال کر رہا ہے۔لیکن پاکستان کے عوام کے مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے دو ٹوک الفاظ میں خبر دار کیا ہے کہ کسی کو بھی ریاست پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کے اقدام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہم دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں نہ کریں تو کیا کریں جو لوگ اس کے خلاف بیانیہ بنارہے ہیں دراصل وہ ریاست کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں، اگر کسی کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ قراردیاجاتاہے تو اسٹیبلشمنٹ توریاست کا نام ہے اور کیا کوئی ریاست کے خلاف ہوتو وہ چل سکتاہے؟
بھارت افغانستان کو دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کر رہا ہے جب کہ دوحہ معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ا سے اب روکنا ہوگا کیونکہ آخر کب تک اسے برداشت کیاجائے گا۔
امریکا 7.
اگر اسمگلنگ ہوتی رہے گی تو اس کے ساتھ دہشت گردی اور دھماکا خیز مواد بھی آئے گا، یہاں ہونے والی اسمگلنگ کا الزام بھی فوج پر لگا دیا جاتا ہے۔صوبے کی گورنس سے متعلق کوئی بات نہیں کی جاتی۔
کیا فوج کے جوان اپنے سینوں پر اس لیے گولیاں کھا رہے ہیں کہ ان کی سیاست چلتی رہے؟ یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کب تک چلتا رہے گا، آج یہ بیانیہ کہاں سے آگیا کہ افغان مہاجرین کو واپس نہیں بھیجنا؟
انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی، جو خارجیوں کی سہولت کاری کرے گا وہ انجام کو پہنچے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سہولت کاروں کے پاس صرف تین چوائس ہیں۔
سہولت کار خود خارجیوں کو ریاست کے حوالے کر دیں۔سہولت کار خارجیوں کے خلاف ریاست کے ساتھ مل کر لڑیں۔اگر ایسا نہیں کرنا تو سہولت کار پاک فوج کے ایکشن کے لیے تیار ہو جائیں۔ جو خارجیوں کی سہولت کاری کرے گا وہ انجام کو پہنچے گا۔
لہٰذا خارجیوں کے ناسور کو انجام تک پہنچانے کے لیے عوام ساتھ دیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک نے افغانستان کو سمجھانے کی کوشش کی، افغانستان میں ہر دہشت گرد گروہ کی کوئی نہ کوئی شاخ موجود ہے۔
یہاں دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کی گئی اور معاملے کو الجھایا گیا،دہشت گردی کے 70فیصد واقعات کے پی میں ہوئے ہیں، لوگوں کو الجھایا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کا حل آپریشن نہیں ہے۔
پاکستان کی مین اسٹریم سیاسی قیادت کا کردار بہت بڑھ گیا ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ملک کی مین اسٹریم سیاسی قیادت کو دو ٹوک اور واضح الفاظ میں سیاسی موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
افغانستان پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے ۔لیکن اگر کوئی ہمسایہ حدود سے تجاوز کر جائے تو اس کے ساتھ تعلقات کی نوعیت تبدیل ہو جاتی ہے ۔پاکستان میں سیاست کرنے والوں کو یہ حقیقت مد نظر رکھنی چاہیے کہ ان کے قول و فعل کا تضاد ‘نظریاتی کنفیوژن اور کم علمی ملک کو بہت بھاری پڑ رہی ہے۔
افغانستان سے کسی قسم کا کوئی گلہ یا شکوہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس ملک کی قیادت کی پالیسی اور ذہنیت قیام پاکستان سے لے کر اب تک تبدیل نہیں ہوئی ہے۔اس لیے اس حوالے سے پاکستانی پالیسی میں ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کا کاروباری طبقہ ہو ‘مذہبی سیاست کرنے والے ہوں ‘مین اسٹریم سیاستدان ہوں یا اہل علم ہوں ‘ان کی پہچان پاکستان ہے ‘اگر کوئی گروہ ‘طبقہ یا شخص پاکستان اور اس کے عوام کے مفادات کے برعکس کام کرتا ہے تو اس سے ایسا کرنے کی آئین اور قانون اجازت دیتا ہے اور نہ ہی ملکی سلامتی اور اس کا اقتدار اعلیٰ اس کی اجازت دیتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کے دہشت گردی کے پاکستان میں پاکستان کے سہولت کار کر رہا ہے حوالے سے ریاست کے انھوں نے کے ساتھ کے خلاف نہیں ہے کی جاتی رہے ہیں جاتی ہے کہ دہشت فوج کے کیا ہے اور ان اور اس
پڑھیں:
ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن
پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔
I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.
Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…
— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026
ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027